Bharat Express DD Free Dish

International Relations

بھارت کی جانب سے یہ مسلسل سفارتی رابطے اس بات کا اشارہ ہیں کہ نئی دہلی مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن، استحکام اور وہاں مقیم بھارتی برادری کے تحفظ کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔

وزیراعظم مودی نے اسرائیلی ہم منصب بنیامن نیتن یاہو سے دو طرفہ ملاقات بھی کی، جس میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو کی اور ٹیکنالوجی، آبی وسائل کے انتظام، زراعت اور ٹیلنٹ شراکت داری جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران انہیں کسی مشاورتی عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ عبوری حکومت نے آئینی منصب کو نظر انداز کیا اور غیر آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی سازش بھی کی گئی۔

برازیل کے صدر لولا دا سلوا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’’بھارت اور برازیل کی عالمی اسٹیج پر شراکت داری مضبوط اور مؤثر رہی ہے۔ جمہوری ممالک کے طور پر ہم گلوبل ساؤتھ کی ترجیحات اور امنگوں کو آگے بڑھاتے رہیں گے۔‘‘

فرانس کے صدر میکروں نے بھارت کی ڈیجیٹل تبدیلی کی ستائش۔ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر بھارت–فرانس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلۂ خیال۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر توانائی، روابط اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق۔ وزیراعظم مودی نے ملاقات کو ’’شاندار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھوٹان کی دوستی نئے اور تبدیلی لانے والے شعبوں تک پھیل رہی ہے۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ سمٹ 16 فروری سے شروع ہو کر 20 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔ اس عالمی اجلاس میں حکومتی پالیسی ساز، صنعت سے وابستہ ماہرین مصنوعی ذہانت، ماہرین تعلیم، ٹیکنالوجی اختراع کار اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شریک ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی مباحث کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

عالمی سلامتی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے صدر ایسٹونیا نے روس کی یوکرین کے خلاف جاری کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی اثرات کا حامل ہے، اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے جنگ روس کے لیے مہنگی ثابت ہو۔

بحرہند کے تناظر میں سری لنکا روایتی طور پر بھارت کا اہم شراکت دار رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی ضروریات کی تکمیل، مشکل حالات میں تعاون اور عوامی روابط پر مبنی ہیں۔ گزشتہ برس سری لنکا میں آنے والے طوفان کے بعد بھارت نے ’’پڑوسی مقدم‘‘ پالیسی کے تحت فوری امداد فراہم کی تھی، جس سے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 16 تا 20 فروری بھارت منڈپم نئی دہلی میں منعقد ہوگی۔ اس میں سربراہان مملکت و حکومت، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرین مصنوعی ذہانت اور دنیا کی سرکردہ اے آئی کمپنیاں شریک ہوں گی۔ سمٹ کا مقصد عالمی اے آئی گورننس کے اصولوں پر مشترکہ فہم کو فروغ دینا اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔