Bharat Express DD Free Dish

Indian Army

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے کہا کہ بھارتی بحریہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ انہوں نے عالمی سمندری سلامتی، سمندری لٹیرے کے خلاف کارروائی اور ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے جیسی کامیابیوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

سپریم کورٹ نے ایک عیسائی فوجی افسر سیموئل کملیسن کی برطرفی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج ایک سیکولر اور نظم و ضبط رکھنے والی فورس ہے، جس میں حکم عدولی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے تبصرہ کیا کہ ان کے رویّے نے سپاہیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو حال ہی میں 272 ریٹائرڈ ججوں، بیوروکریٹس اور اعلیٰ سرکاری افسروں نے ایک مشترکہ خط لکھا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں جموں و کشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس خط کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں بلکہ ملک کے مفاد کی حفاظت ہے۔

ملک کے مغربی سیکٹر اور بحرعرب میں ٹرائی سروسز ایکسرسائز ترشُل زور و شور سے جاری ہے اور آئندہ ہفتے سوراشٹر ساحل پر بڑے پیمانے پر ایمفی بیئس ڈرل کے ساتھ یہ اختتام پذیر ہوگی۔

جموں و کشمیر کے کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں بھارتی فوج نے دراندازی کی ایک اور کوشش کو ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے اور فوج نے پورے سیکٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، حالیہ مہینوں میں ریاست میں لسانی و نسلی کشیدگی کے باعث تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس میں مئی 2023 سے اب تک 260 سے زائد افراد ہلاک اور 60 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔

سری گنگا نگر میں فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دیویدی نے کہا ’’میں یہاں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپریشن سندور 1.0 کے دوران ہندوستان نے جو تحمل کا مظاہرہ کیا تھا وہ اس بار برقرار نہیں رکھا جائے گا۔‘‘

جیسا کہ بتایا گیا، ڈفینس ایکوزیشن کونسل نے آپریشن سندور کے بعد جلد ہی اس دیسی فضائی دفاعی نظام کی خریداری کی منظوری دے دی تھی۔منظوری کے بعد، یہ تیز رفتار اور متحرک نظام مغربی اور شمالی دونوں سرحدوں پر تعینات کیا جائے گا۔

جموں وکشمیرکے ادھم پورکے اونچائی والے علاقے میں سیکورٹی فورسزاوردہشت گردوں کے درمیان تصادم میں ایک فوجی شہید ہوگیا۔ یہ فوجی جمعہ کی شام شروع ہونے والے تلاشی آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا اوربعد میں اسپتال میں دم توڑگیا۔

نیپال کے نوجوانوں نے واضح کیا ہے کہ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت کرپشن فری نہیں ہو جاتی۔ نوجوانوں کے بڑھتے مظاہروں کی وجہ سے نیپال کے وزیراعظم سمیت کئی وزراء کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا پڑا، لیکن پھر بھی نوجوانوں کا غصہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔