Bharat Express DD Free Dish

Indian Air Force

فوجیوں سے ملاقات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کو بھی سخت تنبیہ دی۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت ہوئی۔

بھارتی فضائی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمت عملی کا اظہار، یہ کارروائیاں”نپی تلی، محدود اور غیر اشتعالی“ نوعیت کی تھیں۔

آپریشن میں دیسی آکاش سسٹم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کا چینی نژاد میزائل پی ایل-15 مارگرایا گیا۔ پاکستان کی ڈرون لیزرگن کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے نورخان ایئربیس کو بھی تباہ کردیا گیا۔

آپریشن سندورپرتینوں افواج کی پریس کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے ایئرفورس نے کہا، دہشت گردی کے خلاف ہمارا آپریشن کامیاب رہا۔

سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے ان حملوں میں پاکستان کے کئی اہم فضائی اڈوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر میں 20 مقامات پر چھاپے مار کر ایک سلیپر سیل ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس دوران بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کے بعد پاکستان کو بھی آگاہ کیا تھا۔ یہ معلومات 7 مئی 2025 کی صبح ڈی جی ایم او کی سطح پر دی گئی۔

وکرم مسری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ہندوستانی فوج پورے عزم کے ساتھ جواب دے رہی ہے اور سرحد پر ہونے والی تجاوزات کو روکنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ اقدام ’انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔‘‘

پاکستان کو پہلی بار کسی مسلم ممالک کی حمایت بھی نہیں مل پائی۔ جس وقت پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا وزیر اعظم مودی سعودی عرب کے دورے پر تھے۔ سعودی عرب نے بھی دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کی تھی۔