Bharat Express DD Free Dish

India

وزارت دفاع افواج کے لیے طویل مدتی منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں سینئر حکام صنعتی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔

کانگریس لیڈر راہل نے مزید سوال کیا کہ ’’اس کی اجازت کس نے دی؟ اس کے نتیجے میں ہماری فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے؟‘‘

ہندوستانی حکومت نے ٹرکوں کو واگھہ-اٹاری بارڈر کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے ضروری منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اقدام تنازعہ کشمیر کو بین الاقوامی بنانے کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے درمیان سامنے آیا ہے ، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے بھی شامل ہیں۔

ہر سال ہندوستان سے تقریباً 1.75 لاکھ عازمین مقدس حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ سعودی عرب (کےایس اے) کے ساتھ قریبی تال میل کےساتھ  ہندوستان کی حج کمیٹی کے ذریعے 4 مہینوں پر محیط اتنے وسیع اور حساس عمل کا انتظام کرنا، قومی رابطہ کاری، سفارت کاری اور خدمت کےاعتبار سے ایک عظیم کارنامہ ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی وزارت آبی وسائل نے مبینہ طور پر نئی دہلی کو خط لکھا ہے کہ وہ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت پاکستانی سرزمین میں دریاؤں کا بہاؤ دوبارہ شروع کرے۔

تاریخی ’’آپریشن سندور‘‘ کی دلیرانہ کامیابی پر بھارتی مسلح افواج اور حکومت کو مبارکباد دیتے ہوئے ایم آر ایم نے اسے بھارت کی بدلتی ہوئی عسکری سوچ اور حکمت عملی کا مظہر قرار دیا ہے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماری سفارت کاری کو نقصان پہنچا ہے کیوں کہ کسی بھی ملک نے پاکستان کی مذمت نہیں کی۔

حکومت نے کہا کہ یہ افسر ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھا جو اس کے عہدے اور قواعد کے خلاف تھیں۔ اس وجہ سے اسے 24 گھنٹے کے اندر ہندوستان چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ 7 مئی کو آپریشن سندور شروع ہونے سے لے کر 10 مئی کو گولی باری اور فوجی کارروائی بند کرنے پر اتفاق قائم ہونے تک ہند- امریکی لیڈران کے درمیان تجارت کا معاملہ ہی نہیں اٹھا۔