Bharat Express DD Free Dish

India US relationship

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو عملی شکل دینے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی تجارتی حکام ایک بار پھر بھارت کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں 10 سے 12 دسمبر تک تین روزہ مذاکرات ہوں گے۔

امریکی تجارتی وفد برینڈن لنچ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کے ساتھ بھارت پہنچا ہے۔ بھارتی جانب سے وزارتِ تجارت کے افسران بھی ملاقات میں شامل ہوں گے۔

ایک وقت تھا جب امریکی فرنیچر انڈسٹری بہت مضبوط تھی۔ 1979 میں اس شعبے میں تقریباً 12 لاکھ افراد کام کرتے تھے۔ 2023 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 3.4 لاکھ رہ گئی ہے۔

ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون حالیہ برسوں میں مضبوط ہوا ہے، لیکن ٹرمپ کی طرف سے 6 اگست 2025 کو ہندوستانی برآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے سے، جو کل ٹیرف کو 50 فیصد تک لے گیا، دو طرفہ تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں۔

جیسوال نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات نے ماضی میں کئی سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کا کامیابی سے سامنا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک نے دفاع، ٹیکنالوجی، اور تجارت جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ توسیع بھارت اور امریکہ کے درمیان گہرے ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں بھارتی ڈائسپورا نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے قبل رواں سال جنوری میں، امریکہ نے بنگلورو میں اپنا نیا قونصلیٹ کھولا، جو بھارت میں اس کا پانچواں قونصلیٹ ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ فون کال کے لیے دونوں حکومتیں رابطہ کاری کر رہی ہیں، کیونکہ  پی ایم مودی اس وقت بھارتی پارلیمنٹ کے مانسون سیشن میں مصروف ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو 2030 تک 190 بلین ڈالر سے بڑھا کر 500 بلین ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا حصہ ہے۔

گراہم کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ فیصلہ کن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے اور پیوتن کو 14 جولائی تک فوجی آپریشن روکنے کے لیے 50 دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے بصورت دیگر انہیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں تیل خرید کر روس کی معیشت کو سہارا دینے والے ممالک پر جرمانے عائد کرنا بھی شامل ہے۔

مرکزی  وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور صدرٹرمپ نے فروری 2025 میں ملاقات کے دوران ’منصفانہ اور متوازن‘ معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک نے بھی امید ظاہر کی کہ معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔

ہاورڈ لٹنک نے کہاکہ جو ممالک تیزی سے قدم اٹھاتے ہیں وہ بہتر سودے حاصل کرتے ہیں۔ میرے خیال میں بھارت بھی ایسا ہی کر رہا ہے اور میں اس کی تعریف کرتا ہوں۔ پہلے ایسے معاہدے ہونے میں دو سے تین سال لگتے تھے، لیکن اب ہم انہیں ایک ماہ میں مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔