Bharat Express DD Free Dish

India US relationship

صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی نے ہماری حکومتوں ، صنعتوں اور تعلیمی اداروں کے درمیان اعلی سطحی روابط کو برقرار رکھنے اور ایک پائیدار امریکہ- ہندوستان شراکت داری کے لیے ان کے آرزو مند وژن کو عملی جامہ پہنانے کا عہد کیا۔

ہندوستانی خلائی صنعت کے پیشہ ور وں نے امریکی محکمہ خارجہ کے زیر اہتمام منعقدہ انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام کے ذریعے امریکہ کے سرکاری اور نجی ہم منصبوں کے ساتھ گفت وشنید کی۔

بھارت کی جانب سے 31 پریڈیٹر ڈرونز کا حصول ایک ایسے وقت میں ہوا جب بھارتی بحریہ کے دو اسکائی گارڈین ڈرونز (غیر مسلح پریڈیٹر) کی لیز جنوری میں ختم ہونے والی تھی۔ اس میں پہلے مارچ تک توسیع کی گئی اور پھر اس ماہ 220-230 ملین ڈالر کی لاگت سے چار سال کے لیے مزید توسیع کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

1997 میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تجارت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن آج اس کی مالیت 20 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریڈر نے کہا کہ چین وزارت دفاع کے لیے ایک "مسلسل چیلنج" ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  ہندوستان کے ساتھ ہماری شراکت داری ہمارے سب سے زیادہ نتیجہ خیز تعلقات میں سے ایک ہے

جنوری اور اپریل 2023 کے درمیان چار مہینوں میں امریکہ-بھارت شراکت داری میں توسیع ہوتی رہی۔دفاع، ٹیکنالوجی اور اقتصادی تعاون کے دائرہ کار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

وزیر اعظم مودی 22 جون کو امریکہ کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی کو امریکی صدر جو بائیڈن اور خاتون اول جل بائیڈن وائٹ ہاؤس میں ایک سرکاری عشائیہ میں میزبانی کریں گے۔