Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan Border

بھارتی حکومت پاکستان اور بنگلہ دیش سے متصل تقریباً 6,000 کلومیٹر طویل سرحد پر چار سطحوں پر مشتمل اسمارٹ سکیورٹی گرڈ قائم کرنے جا رہی ہے۔ دسمبر 2026 تک مکمل ہونے والے اس منصوبے کے تحت اسرائیلی طرز کی جدید ٹیکنالوجی، جیسے اینٹی ڈرون سسٹم، تھرمل امیجنگ اور اینٹی ٹنلنگ سسٹم نصب کیے جائیں گے۔

مسجد سے وابستہ مولوی معروف خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں کارروائی سے صرف ایک روز قبل نوٹس دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ نوٹس کا جواب تیار کر رہے تھے اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن جواب داخل کرنے سے پہلے ہی انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کر دیا۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سرحدی اضلاع کے ضلع مجسٹریٹ کو آبادیاتی تبدیلیوں کی سخت نگرانی کرنی چاہیے اور اس حوالے سے باقاعدہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں صنعتی یونٹس کے قیام کے باعث ہونے والی ’’ریورس مائیگریشن‘‘ ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

بی ایس ایف نے ہندوستان-پاکستان بین الاقوامی سرحد پرایک بڑی دراندازی کی سازش کو ناکام کیا ہے۔ جموں کے پرگوال سیکٹرمیں ایک مشتبہ دہشت گرد کوگرفتارکیا گیا، جس کے پاس چینی ہتھیارہونے کا خدشہ ہے۔ بی ایس ایف نے جس مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا ہے، اس کے تار جیش محمد سے منسلک ہونے کا خدشہ ہے۔

کانگریس لیڈرراہل گاندھی امریکہ کے ہندوستان-پاکستان موضوع میں مداخلت اورسیزفائرپرحکومت کے رخ کی مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے وجے چوک پراحتجاج کی اجازت مانگی ہے، لیکن دہلی پولیس سے ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے۔

پاکستان کو ملنے والے IMF فنڈز کے بارے میں، سکریٹری خارجہ نے الزام لگایا کہ یہ مالی امداد بالواسطہ طور پر پاکستان کو اس کی فوجی انٹیلی جنس کارروائیوں کی مالی معاونت کرنے کے قابل بنا رہی ہے، جس میں لشکر طیبہ (LeT) اور جیش محمد (JeM) جیسے گروپ شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستانی رینجرس نے بی ایس ایف کے ایک جوان کو پکڑا تھا۔ اب بی ایس ایف نے پاکستانی رینجرکو پکڑا ہے۔ یہ پاکستانی رینجر ہندوستانی سرحد میں داخل ہوگیا تھا۔

حکومت ہند نے قلیل مدتی اور سارک ویزا رکھنے والوں کو 27 اپریل تک ہندوستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اسی طرح میڈیکل ویزا رکھنے والوں کے لیے مدت کار 29 اپریل تھی۔

یہ فائرنگ پاکستانی فوج کی طرف سے بلا اشتعال کی جا رہی ہے۔ جہاں منگل کو لائن آف کنٹرول کے پار سے کپواڑہ، بارہمولہ اور اکھنور سیکٹروں میں فائرنگ ہوئی، وہیں کل کپواڑہ اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی۔

تاہم مقامی انتظامیہ اور بی ایس ایف نے ایسی کوئی تحریری ہدایت جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ بی ایس ایف کے ذرائع نے بتایا کہ اس قسم کی ہدایت کسانوں کو حفاظتی اقدامات میں اضافے کے تحت زبانی طور پر دی گئی ہے۔