China’s Eye on the Arctic: ہرمز نہیں، چین کی نظر آرکٹک پر، کیا ’آئس سلک روڈ‘ بھارت کے لیے بھی ضروری؟
شمالی سمندری راستہ چین کو یورپ تک تیز تر رسائی دے سکتا ہے، بھارت کے لیے تجارت، توانائی اور اسٹریٹجک مفادات کے نئے امکانات
India storng response to China: یہ 1962 نہیں، 2026 کا بھارت ہے! لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے شکسگام وادی پر چین کے دعوے کو دیا سخت انتباہ
بھارت نے شکسگام وادی پر چین کے دعوے پر سخت پیغام دیا ہے۔ لداخ کے ایل جی کووِنڈر گپتا نے واضح کیا کہ یہ 1962 کا بھارت نہیں ہے۔
Operation sindoor 2.0 could happen anytime: ’آپریشن سندور 2.0 کسی بھی وقت ہوسکتا ہے شروع ‘، چین کی سرحد پر آرمی چیف کا بڑابیان
ہندوستانی آرمی کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے کہاکہ فوج جلد ہی ناردرن کمانڈ اور رودر بریگیڈ تشکیل دینے جا رہی ہے۔ بھیرو بٹالین بھی تشکیل دی جائے گی۔
India-China Crisis: ایس جے شنکر نے امریکہ میں چین کے ساتھ تعلقات پر کہی یہ بات ،بتایا کیا ہے ایشیا کا مستقبل؟
ایس جے شنکر نے مزید کہا، جب میں نے کہا کہ اس کا 75 فیصد حل ہو چکا ہے، یہ صرف فوجیوں کے تنازعہ کا معاملہ ہے... تو یہ واضح ہے کہ یہ مسئلہ کا ایک حصہ ہے... اس لئے ہم تنازعہ کے اس پوائٹ میں "ہم زیادہ تر فوجی محاذ آرائیوں کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
POK Will Merge With India After Some Time: ’تھوڑا انتظار کیجئے… کچھ دن بعد POK ہندوستان میں مل جائے گا…‘ سابق فوجی سربراہ وی کے سنگھ کا بڑا اعلان
مرکزی وزیر اور سابق فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے ایک بیان نے پاکستان کی نیند اڑا دی ہے۔
S Jaishankar on China: ہندوستان کو چین کی طرف سے ‘انتہائی پیچیدہ چیلنج’ کا سامنا ہے، سرحدی علاقوں میں جمود کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوئی کوشش نہ کی جائے: جے شنکر
جئے شنکر نے بظاہر مشرقی لداخ میں چین کی دراندازی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب میں بڑی طاقتوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یقیناً ہمیں چین کی طرف سے ایک خاص چیلنج درپیش ہے
Chinese Foreign Minister Qin Gang: چینی وزیر خارجہ نے ایک بار پھر اپنا پرانا راگ دہرایا، کہا- سرحد پر صورتحال مستحکم، بھارت تاریخ سے سبق سیکھے
چینی وزیر خارجہ کن گینگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستان چین سرحد پر صورتحال مستحکم ہے۔ دونوں فریقوں کو موجودہ کامیابیوں کو مستحکم کرنا چاہیے اور سرحد پر دیرپا امن کے لیے حالات کو مزید کم کرنے پر زور دیتے ہوئے متعلقہ معاہدوں پر سختی سے عمل درآمد کرنا چاہیے۔




