Bharat Express DD Free Dish

ICC T20 World Cup 2026

ہندوستان اورپاکستان کا میچ 15 فروری کوہونا ہے، لیکن پاکستانی وزیراعظم نے اعلان کردیا ہے کہ ان کی ٹیم یہ میچ نہیں کھیلے گی۔ اب سری لنکا کرکٹ بورڈ نے اس مسئلے پرپی سی بی کوای-میل لکھا ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا، ’’ہم نے ٹی20 ورلڈ کپ کے بارے میں صاف فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ تمام پہلوؤں پر غور اور محتاط تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔ شہباز شریف نے ایک طرف اس بائیکاٹ کو درست قرار دیا،

جوش ہیزل ووڈ ایشز سیریز کے بھی تمام میچز نہیں کھیل پائے تھے۔ انہوں نے اس وقت امید ظاہر کی تھی کہ وہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 تک مکمل فٹ ہو جائیں گے، مگر تاحال ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ ای ایس پی این کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریلیا کے سلیکٹرز اور میڈیکل اسٹاف نے مشترکہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ہیزل ووڈ فی الحال سڈنی میں ہی رہیں گے۔

پاکستان نے ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 سے عین قبل بھارت سے کھیلنے سے انکارکر دیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پرحکومت اور بی سی سی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے قومی احترام کا حوالہ دیتے ہوئے اس طرح کے تعلقات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ قومی ٹیم کو ٹی20 ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دی جاتی ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں 15 فروری کو بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں ٹیم شرکت نہیں کرے گی۔

آئی سی سی ٹی20 رینکنگ میں جہاں نوجوان بلے باز ابھیشیک شرما نے اپنی پہلی پوزیشن مضبوطی سے برقرار رکھی ہے، وہیں بھارتی ٹیم کے کپتان سوریہ کمار یادو نے شاندار کارکردگی کی بدولت طویل چھلانگ لگاتے ہوئے ٹاپ ٹین میں دوبارہ جگہ بنا لی ہے۔

بنگلہ دیش نے تیز گیند باز مستفیض الرحمٰن کو انڈین پریمیئر لیگ 2026 سے ریلیز کیے جانے کے بعد سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے گروپ اسٹیج کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش نے آئرلینڈ کے ساتھ گروپ تبدیل کرنے کی تجویز بھی آئی سی سی کو دی تھی۔

ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 سے پہلے بڑا الٹ پھیرہوسکتا ہے۔ اگرپاکستان ٹورنا منٹ سے ہٹ جاتا ہے تو آئی سی سی بنگلہ دیش کو دوبارہ موقع دینے کی تیاری میں ہے۔ پاکستان کے فیصلے سے ورلڈ کپ کے پورے شیڈول کومتاثرکرسکتا ہے۔

بورڈ میٹنگ کے بعد بنگلہ دیش کو 24 گھنٹے کا اضافی وقت دیا گیا تھا اور واضح طور پر بتا دیا گیا تھا کہ اگر وہ ورلڈ کپ کے لیے بھارت نہ جانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔

اس فیصلے کی سب سے بڑی قیمت بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو مالی طور پر چکانی پڑ سکتی ہے۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق آئی سی سی سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی کی مد میں بی سی بی کو تقریباً 325 کروڑ بنگلہ دیشی ٹکہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔