Bharat Express DD Free Dish

Home Minister Amit Shah

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف جماعتوں کی جانب سے ریلیوں اور جلسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں امت شاہ نے کلٹی کے وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن صرف حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ہے۔

مغربی بنگال کے بردھمان ضلع کے کلٹی علاقے میں واقع وکٹوریہ ویسٹ اسکول گراؤنڈ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی انتخابی ریلی میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو ملی۔ ریلی میں شریک افراد نہ صرف امت شاہ کی تقریر سننے پہنچے بلکہ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی سیاسی ترجیحات اور توقعات کا بھی کھل کر اظہار کیا۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ 2026 کی مردم شماری ذات (کاسٹ) کی بنیاد پر بھی کرائی جائے گی۔

لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔

اپنے خطاب کے دوران امت شاہ نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حاصل کی گئی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں اور کئی تاریخی فیصلے لیے گئے ہیں، جن میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر شامل ہے۔