Bharat Express DD Free Dish

Hezbollah Leader

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔

گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک عمارت پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی بیٹی زینب نصر اللہ اور کئی ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے تھے۔حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم نے ان کے قریبی عزیز ہاشم صفی الدین کو اپنا قائم مقام سربراہ مقرر کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان فرحان حق نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے علاقے میں دو دیگر اہداف پر بھی فائرنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے لبونہ میں امن دستوں کے بنکر کے داخلی دروازے پر فائرنگ کی اور گاڑیوں اور کمیونکیشن سسٹم کو نقصان پہنچایا۔

23 ستمبر کے بعد سے، اسرائیلی فوج نے لبنان بھر میں حزب اللہ کے خلاف اپنے فضائی حملے تیز کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد شہری ہلاک اور متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔

لبنانی عسکری ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج عدیشہ اور کفر کیلی کے گاؤں میں داخل ہوگئی ہے۔ جس کے بعد جمعرات کی دو پہر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

نصراللہ نے 1992 سے اس عسکری گروپ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا، اس گروپ کے سابق سربراہ عباس الموسوی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ ان کی قیادت میں، حزب اللہ لبنان میں ایک سیاسی قوت کے طور پر پروان چڑھی۔

یہ ان کا گزشتہ پانچ سالوں میں پہلا خطبہ جمعہ ہوگا ۔ اس سے قبل انہوں نے پاسداران انقلاب کے سپہ سالار قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطبہ دیا تھا جس کو پانچ سال مکمل ہوگئے اور اب یہ دوسرا خطبہ ہوگا جو اسرائیل پر تازہ ترین حملہ اور حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ ہم جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ نعیم قاسم نے امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ نسل کشی کے لیے اسرائیل کی مسلسل حمایت کر رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی غزہ پٹی کے تنازعہ کے بعد زیادہ بڑھی ہے۔ اولین ترجیح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنا، غزہ پٹی میں جلد از جلد جنگ کا خاتمہ اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو مؤثر طریقے سے برقرار رکھنا ہے۔

28 ستمبر: ہفتے کے روز، IDF نے نصراللہ کے قتل کا اعلان کیا۔ چند گھنٹے بعد حزب اللہ نے بھی اپنے لیڈر کی موت کی تصدیق کر دی۔ نصراللہ 1992 میں 30 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ اگلے 32 سالوں میں انہوں نے حزب اللہ کو نہ صرف لبنان بلکہ مشرق وسطیٰ کی ایک بڑی طاقت بنا دیا۔