Bharat Express DD Free Dish

Heavy rains

وزیراعظم مودی نے آج احمد آباد کے کھوڈل دھام گراؤنڈ میں 5,400 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، سنگ بنیاد رکھا اور قوم کے نام وقف کیا۔ انہوں نے احمد آباد میں روڈ شو بھی کیا۔

ریاستی محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر پنکج دھریندر نے بتایاکہ "یہ دیوار اس وقت بنائی گئی تھی جب جے پور میں 1976 میں ہاتھیوں کی سواری کا آغاز امبر پیلس کے علاقے میں کیا گیا تھا۔ اسے ہاتھیوں کو پہاڑی سے گرنے سے روکنے کے لیے حفاظتی اقدام کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یوپی میں سیلاب نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ریاست کے 17 اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ لکھنؤ، ایودھیا، اور امبیڈکر نگر میں جماعت 12 تک کے تمام اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں بارش کی وجہ سے ریاست میں 11افراد کی جان جا چکی ہے۔

چنئی میں یکم جون سے اب تک 15 سینٹی میٹر بارش ہوئی ہے جو کہ معمول سے 26 فیصد زیادہ ہے۔ وہیں، پورے تمل ناڈو میں 7 سینٹی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو موسمی اوسط سے 13 فیصد کم ہے۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق کیر کاؤنٹی میں واقع ایک نجی عیسائی سمر کیمپ ’کیمپ مائسٹک‘ سے 20 سے زائد لڑکیاں لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ کیمپ ایک ندی کے کنارے واقع تھا

تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل، کیرالہ اور ماہے میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے اگلے دو دنوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ساحلی آندھرا پردیش، یانم، رائلسیما اور جنوبی اندرونی کرناٹک میں بارش کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان رشی رام پوکھرل کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق ملک میں سیلاب سے متعلق واقعات میں 111 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پوکھرل نے کہا کہ تمام سیکیورٹی اداروں کی مدد سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

جنوبی وسطی ریلوے نے کہا کہ آندھرا پردیش میں شدید بارش کی وجہ سے احتیاطی تدابیر کے طور پر کئی ٹرینوں کو ڈائیورٹ اور منسوخ کیا جا رہا ہے۔

مین پوری اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے، اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ اور مقامی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ مزید مسائل پیدا نہ ہوں۔

تحقیقی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے 100 سالوں میں بارش کے انداز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب کی گرمی کی وجہ سے بادلوں کی تشکیل میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے کم وقت میں ضرورت سے زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں۔ م