Bharat Express DD Free Dish

Heavy Rainfall

گزشتہ 60 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 56 اضلاع میں شدید بارش ریکارڈ، 107 مویشی ہلاک اور 1021 مکانات کو نقصان، ہردوئی میں سب سے زیادہ 272 مکانات متاثر

شدید بارش سے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی درہم برہم، درخت اور مکانات گرنے سے کئی افراد کی موت، ندیوں کا پانی بڑھنے سے سیلاب کا خطرہ، خریف کی فصلیں بھی زیرِ آب۔

موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ مذکورہ ریمپ کے قریب ہائی ٹینشن بجلی کی لائن کی اونچائی نسبتاً کم ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی نکاسی کا نظام متاثر ہوا ہے۔

ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 135.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 15 برسوں میں اس موسم کی سب سے زیادہ بارش بتائی جا رہی ہے۔ مسلسل بارش کے باعث دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت گر کر 23.5 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جس نے گزشتہ 19 برسوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں تیز بارش بھی ہونے کا امکان ہے۔ خاص طور پر دوپہر کے بعد سے رات کے درمیان گرج چمک کے ساتھ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ہے۔ شام سے رات تک تقریباً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔

دہلی-این سی آر سے لے کر اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ اور پہاڑی ریاستوں تک موسم میں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ کئی مقامات پر شدید بارش کے ساتھ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ مشرقی بھارت کے بعض علاقوں میں آسمانی بجلی کے حوالے سے خاص احتیاط برتنے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔

مہاراشٹر اور گجرات کے مختلف علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ٹریفک کی بندش کے درمیان مرکزی حکومت نے صورتحال کا لیا جائزہ لیا اور وزیرداخلہ نے وزرائے اعلیٰ سے فون پر گفتگو کرکے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے۔

جنوبی ممبئی کے فورٹ علاقے میں سڑکیں مکمل طور پر زیرِ آب آگئیں، جبکہ شہر کے شمالی حصے وسئی-ویرار میں رات بھر ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد کئی مقامات پر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی۔ رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے باعث مقامی انتظامیہ الرٹ پر ہے۔

بیلا روڈ سمیت مونیسٹری مارکیٹ اور سِول لائنس میں سڑکیں جھیل کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں گاڑیاں پانی میں ڈوبی ہوئی اور عمارتیں زیر آب ہیں۔ حکام نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے تاکہ ممکنہ سیلابی خطرے سے بچا جا سکے۔

بارش کے بعد کی صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ دہلی-این سی آر میں شہری انفراسٹرکچر اب بھی بارش کے دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، اور چند گھنٹوں کی شدید بارش پورے نظام کو مفلوج کر دیتی ہے۔