Bharat Express DD Free Dish

Heavy Rainfall

نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 26 ٹیمیں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سیلاب سے راحت اور بچاؤ کاموں کے لیے تعینات کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق دونوں ریاستوں میں 12 ٹیمیں پہلے ہی تعینات ہیں۔

مین پوری اور آس پاس کے علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے نظام زندگی متاثر ہو رہا ہے، اور کئی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ اور مقامی امدادی ٹیمیں متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہیں اور صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ مزید مسائل پیدا نہ ہوں۔

آئی ایم ڈی نے کہا ہے کہ شمالی گجرات پر گہرا دباؤ بتدریج مغرب سے جنوب مغرب کی طرف بڑھے گا اور 29 اگست تک سوراشٹرا اور کچھ اور پاکستان کے ملحقہ علاقوں اور شمال مشرقی بحیرہ عرب تک پہنچ جائے گا۔

محکمہ موسمیات نے نہ صرف حیدرآباد اور تلنگانہ بلکہ دیگر کئی ریاستوں میں بھی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علاقوں میں ہائی الرٹ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ صرف ہنگامی حالات میں ہی گھروں سے نکلیں۔

اس وقت دبئی سے متعلق کئی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی ہیں جو کافی حیران کن ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ تیز بارش اور طوفان کے باعث دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صرف پانی ہی پانی نظر آرہا ہے۔

آئی ایم ڈی کے مطابق، 18 دسمبر کو تمل ناڈو کے کنیا کماری، ترونیل ویلی، تھوتھکوڈی، رام ناتھ پورم، پدوکوٹئی اور تھانجاور اضلاع میں ایک یا دو مقامات پر بھاری بارش کا امکان ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں میں بھی 9 ستمبر تک بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ آسام اور میگھالیہ میں 8 اور 9 ستمبر کے دوران اور ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور تریپورہ میں 7 سے 9 ستمبر کے دوران بارش متوقع ہے۔

اتراکھنڈ میں موسلادھار بارش کی وجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ ندی نالوں میں تیزی آ رہی ہے۔ سیلابی پانی سڑکوں پر آگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں کو ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دہلی میں بھی پچھلے کچھ دنوں سے بارش ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوا۔ قومی راجدھانی میں محکمہ موسمیات نے 3 جولائی تک  تیز ہوا کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

انڈر پاس میں پانی کی سطح کا احساس کیے بغیر کار ڈرائیور نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن درمیان میں گاڑی تقریباً ڈوب گئی۔ جلدی میں گاڑی میں بیٹھے لوگ خود کو بچانے کے لیے باہر نکل آئے۔