Bharat Express DD Free Dish

Haryana

ہریانہ میں بی جے پی کے اندر جاری کشمکش کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پہلی بار پارٹی نے سختی دکھائی ہے اور وزیر اور سینئر بی جے پی لیڈر انل وج کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

دہلی کے اسمبلی انتخابات میں یمنا کے پانی کا تنازعہ دہلی سے ہریانہ میں چلا گیا ہے۔ ہریانہ میں سونی پت انتظامیہ نے اروند کیجریوال کے خلاف یمنا کے پانی سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا ہے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے بدھ کے روز دہلی کے پللا گاؤں کے قریب یمنا ندی پر جا کر اس کا پانی پیا۔ انہوں نے یہ قدم ایسے وقت اٹھایا جب یمنا کے زہریلے پانی پر بی جے پی، ہریانہ حکومت اور عام آدمی پارٹی آمنے سامنے ہیں۔

عارضی الاٹمنٹ لیٹر 18 نومبر 2013 کو دیا گیا تھا، جب گھر خریدار نے تقریباً 12 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ فلور خریدار کا معاہدہ 6 مئی 2014 کو رجسٹر کیا گیا تھا، جب گھر خریدنے والے نے 1.07 کروڑ روپے ادا کیے تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کی دیر رات ایس ٹی ایف میرٹھ کو خفیہ اطلاع ملی کہ بدمعاش شاملی کے جھنجھانا علاقے میں لوٹ کی نیت سے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ایس ٹی ایف کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ ایس ٹی ایف ذرائع کے مطابق ٹیم نے کار کو آتے دیکھا تو اسے روکنے کی کوشش کی، اس دوران کار سواروں نے فائرنگ شروع کر دی۔

ہندوستانی محکمہ موسمیات (IMD) کے مطابق ’’ویسٹرن ڈسٹربنس کی وجہ سے ہندوستان کے موسم میں اچانک تبدیلی آرہی ہے۔ اس کا اثر آئندہ چند دنوں میں مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے۔

بھارت کے سابق نائب وزیر اعظم چودھری دیوی لال کے بیٹے اوم پرکاش چوٹالہ ہریانہ کے ساتویں وزیر اعلیٰ رہے تھے۔ وہ یکم جنوری 1935 کو سرسا کے گاؤں چوٹالہ میں پیدا ہوئےتھے۔

عدالت نے مزید کہا کہ پنجاب کے حلف نامے میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ گاؤں کی سطح پر مانیٹرنگ کمیٹی کب بنی اور نوڈل افسر کب مقرر ہوئے۔ حکومت نے یہ حکم کب پاس کیا؟ اگر یہ کمیٹی بنی تھی تو اس نے اب تک کیا کیا؟

ہریانہ کی تمام سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں 5 اکتوبر کو ووٹنگ ہوئی تھی۔ رجحانات میں بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ دیکھا جا رہا ہے۔ بی جے پی ہیٹ ٹرک کا دعویٰ کر رہی ہے۔ جبکہ کانگریس دس سال بعد اقتدار میں واپسی کی امید کر رہی ہے۔

ہریانہ کی اسمبلی انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اوردوپہر تک ووٹوں کی گنتی میں کانگریس کو بڑا جھٹکا لگتا ہوا دکھائی دے رہا ہے چونکہ یہاں کانگریس 36 سیٹوں پر ہی آگے ہے، جبکہ بی جے پی 48 سیٹوں پر آگے دکھائی دے رہی ہے۔یعنی ہریانہ میں بی جے پی اپنے دم پر حکومت بناتی دکھائی دے رہی ہے۔