PM Modi holds bilateral talks: وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریا کے چانسلر کے درمیان اہم دوطرفہ مذاکرات، تجارت، ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو
چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔
PM Modi meets Austrian Chancellor: وزیراعظم نریندر مودی کی آسٹریا کے چانسلر کرسچین اسٹوکر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور
یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔
US-Iran peace talks: امریکہ۔ایران مذاکرات کے لیے کوششیں جاری، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی طاقتیں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ پاکستان کی یہ سرگرمیاں خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے خود کو امن کے ضامن کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے۔
US–Iran Talks: امریکہ اور ایران کے درمیان کیوں نہیں ہوپارہا ہے معاہدہ؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتائی بڑی وجہ
نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔
US-Iran Talks: امریکہ-ایران مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع، اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود رابطے برقرار، جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے پیش رفت کی امید
پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔
Iran talks with US: امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران سنجیدگی کے ساتھ ہوا ہے شامل، نتائج کا انحصار واشنگٹن کے رویے پر: ایرانی صدر
اسلام آباد میں جاری بات چیت میں پیش رفت کے باوجود اختلافات برقرار۔ ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ بات کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
US-Iran Talks: اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ، 21 گھنٹے طویل بات چیت کے باوجود تعطل برقرار، امریکہ نے کہا ایران نے شرائط قبول نہیں کیں
واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔
US-Iran talks concludes: اسلام آباد میں امریکہ–ایران مذاکرات کے پہلے مرحلے میں ایرانی مفادات کو مقدم رکھنے کا عزم، دونوں ممالک کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ
اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
Trump reveals Iran roadmap: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے لیے نیا روڈ میپ، ایران کے جوہری پروگرام پر موقف سخت، پابندیوں میں نرمی کا اشارہ
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے۔ تاہم، خطے کی پیچیدہ صورتحال اور مختلف فریقوں کے مفادات کے باعث آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔
Delegation meets: نوگانواں سادات کے وفد کی ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے سے ملاقات، اسرائیل-امریکہ جارحیت کی سخت مذمت
وفد نے ایرانی سپریم لیڈر کے نمائندے کو جنگ کے پیش نظر انسانی مدد کے لیے نوگانواں سادات کے افراد کی طرف سے رقم ہدیہ کی۔ وفد نے ایرانی رہبراعلیٰ کو شہید کیے جانے کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت کی۔





