Bharat Express DD Free Dish

global diplomacy

جنیوا: وزیراعظم نریندر مودی منگل کو (مقامی وقت کے مطابق) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ گئے، جہاں سے وہ فرانس کے تفریحی مقام ایویان میں منعقد ہونے والے جی-7 سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فرانس 15 سے 17 جون تک 52ویں جی-7 سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ بھارت اس مرتبہ شراکت دار …

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے بعد الیکٹرانک دستخط اور پھر تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر بھی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان معاہدے کے الیکٹرانک دستخط کے لیے بھی تیاری کر رہا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق یہ حادثہ جمعہ کو شانشی صوبے کے چینیوان کاؤنٹی میں واقع لیوشینیو کول مائن میں گیس دھماکے کے سبب پیش آیا۔ رپورٹ کے مطابق حادثے میں اب تک 82 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 9 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ اسے گزشتہ ایک دہائی میں چین کا بدترین کان حادثہ قرار دیا جارہا ہے۔

مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

نریندر مودی کے اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈ کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تزویراتی اور تکنیکی تعاون کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے۔

دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ، یوکرین بحران اور جزیرہ نما کوریا سمیت کئی علاقائی اور عالمی امور پر بھی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس سال ہونے والے اے پیک اکنامک لیڈرز اجلاس اور جی-20 سربراہ اجلاس کی کامیاب میزبانی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ اور نمائندوں کے ساتھ برکس کے سرکاری ’’فیملی فوٹو‘‘ سیشن میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کے نمائندے ایک ساتھ نظر آئے، جسے سفارتی یکجہتی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ٹی وی میزبان نے ایک نشریاتی پروگرام کے دوران اطالوی زبان میں میلونی کے خلاف سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ’’انسانیت کے لیے شرمناک،جنگلی جانور، مصدقہ بیوقوف‘‘ اور دیگر نازیبا القابات سے مخاطب کیا۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔

اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔