Bharat Express DD Free Dish

G20 India

ٹیک کنسلٹنٹ اور جنوبی افریقہ کی سابق رکنِ پارلیمنٹ فمزیلے وان ڈیم نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کو جنوبی افریقی فنکاروں کے ساتھ بات چیت کرتے دکھایا گیا ہے، جنہوں نے ان کی آمد پر ہوائی اڈے پر روایتی استقبالیہ رقص پیش کیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو جوہانسبرگ پہنچے، جہاں ان کا شاندار اور روایتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ ایئرپورٹ پر انہیں ثقافتی مظاہرے کرنے والی ٹیم نے خوش آمدید کہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ان کے لیے کتنی عزت و احترام قائم ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے وضاحت کی کہ موسمیاتی بحران ڈرامائی طور پر بگڑ رہا ہے جبکہ ردعمل میں عزائم، ساکھ اور عجلت کا فقدان ہے۔جنگیں اور تنازعات بڑھ رہے ہیں - لیکن امن کو آگے بڑھانے کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جب بھی انہوں نے یا ان کی پارٹی نے اڈانی مسئلہ یا سرمایہ داری کا مسئلہ اٹھایا ہے تو پی ایم مودی توجہ ہٹانے کی حکمت عملی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا، "انڈیا کے نام پر اپوزیشن اتحاد نے حکومت میں خوف پیدا کر دیا ہے۔"

تاج ہوٹل نے اپنے مہمانوں کے لیے الگ انتظامات کیے ہیں۔ آپ کو اس ہوٹل میں ٹھہرنے والے لوگوں کی پلیٹوں میں ہندوستانی مقامی پکوان دیکھنے کو ملیں گے۔ یہاں مہمانوں کو نان خطائی اور گلکند کے لڈو کے ساتھ کاجو  بھی پیش کی جائے گی۔

جی 20 ممالک کے سربراہان دہلی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، مذکورہ سمٹ کے لئے پوری دہلی کو رنگ برنگی روشنیوں اور مختلف اقسام کی تصاویر( پینٹنگ) سے مزین کیا  گیا ہے،دہلی کے مختلف مقامات پرسکیوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں

 جب میں وزیر اعظم بنا تو ہندوستانی عوام کا ردعمل زبردست اور شائستہ تھا۔ جو چیز برطانیہ اور بھارت کے تعلقات کو واقعی منفرد بناتی ہے وہ ہمارے ممالک کے درمیان زندہ پل ہے، جس میں برطانیہ میں مقیم 1.6 ملین ہندوستانی شامل ہیں۔

پی ایم مودی نے کہا، "بھارت منڈپم میں عظیم نٹراج کا مجسمہ ہماری بھرپور تاریخ اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں کو زندہ کرتا ہے۔ جیسا کہ دنیا جی۔20 سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہوگی، یہ ہندوستان کی قدیم فن کاری اور روایات کی گواہی دے گی۔

G-20 کانفرنس سے متعلق سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ کیا لاک ڈاؤن ہوگا؟ اگر آپ کے ذہن میں بھی یہی سوال پیدا ہو رہا ہے تو ہم آپ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں لگایا جا رہا ہے۔ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کسی چیز کو ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پورے واقعہ کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی پنوں کی ہدایت پر 26 اگست کو دہلی میٹرو اسٹیشن پر خالصتانی کے حق میں نعرے لکھے گئے تھے۔