Bharat Express DD Free Dish

Farooq Abdullah

فاروق عبداللہ کا یہ بیان عالمی سیاست میں مسلم ممالک کے اتحاد اور فعالیت کے فقدان کو واضح کرتا ہے۔ عبداللہ کا ماننا ہے کہ اگر مسلم ممالک اس بحران میں اکٹھے نہیں ہوئے تو انہیں مستقبل میں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دریں اثنا فاروق عبداللہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

فاروق عبداللہ کے ساتھ خطے کے نائب وزیر اعلی سریندر چودھری، خوراک اور شہری سپلائی کے وزیر ستیش شرما اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈران بھی موجود تھے۔

فاروق عبداللہ نے کہا، "کیا آپ جانتے ہیں کہ اس واقعے میں میرے کتنے وزیر مارے گئے، کتنے ایم ایل اے مارے گئے، کتنے کارکن مارے گئے؟ 1500 سے زیادہ لوگ مارے گئے

فاروق عبد اللہ نے پہلگام میں کہا کہ ’’دہشت گردانہ حملے کے بعد سیاحوں کا یہاں آنا دل خوش کر دینے والی بات ہے، جو لوگ ان کے اندر دہشت پھیلانا چاہتے تھے وہ ناکام ہو گئے۔‘‘

پہلگام دہشت گردانہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے معاملے پر، فاروق عبداللہ نے کہا کہ پہلگام واقعے میں کوئی بھی ہو سکتا ہے، جب تک ہم ان کو پکڑیں گے نہیں تب تک ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہینڈلر کون ہے، میں کہہ سکتا ہوں کہ اس حملے کے پیچھے وہی ہوں گے۔

فاروق عبداللہ کا یہ تبصرہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد آیا ہے جس میں 25 ہندوستانیوں سمیت ایک نیپالی  سیاح  ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے دو قومی نظریہ سامنے لانے کے چند دن بعد ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا ہے تو اے ایس دلت کی پچھلی کتاب میں محبوبہ مفتی کے والد کے بارے میں جو باتیں لکھی گئی تھیں، کیا وہ درست تھیں؟

جموں وکشمیراسمبلی میں وقف قانون سے متعلق تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے وقف پر تبادلہ خیال کے لئے وقفہ سوال ملتوی کرنے کی تجویز کو منظور کردیا۔ یہ تجویز نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نظیر گریزی اور تنویر صادق نے پیش کی تھی۔ اس کے بعد جم کرہنگامہ ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فاروق عبداللہ نے جمعرات کو کٹرا کے ایک آشرم میں ’بھجن‘ پروگرام میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بھجن گانے کے علاوہ روپ وے پراجیکٹ کے خلاف کٹرا کے لوگوں کی حمایت میں آواز بھی بلند کی۔