Bharat Express DD Free Dish

Entertainment

ہندی سنیما کے لیجنڈ اداکار اور ہی مین کہلائے جانے والے دھرمیندر دیول 24 نومبر کو دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اپنی شاندار اداکاری، بے مثال فلموں اور ملنسار طبیعت کے باعث دھرمیندر کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ممبئی تک کا ان کا سفر جتنا مشکل تھا، اتنا ہی متاثر کن بھی۔ شہرت کی چمک دمک کے بیچ بھی انہوں نے اپنے والدین کے دیے ہوئے تہذیب اور سادگی کو کبھی نہیں چھوڑا۔

پریمیئر کے اعلان کے بعد فلمی صنعت اور سماجی تنظیموں میں زبردست جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ یہ فلم نہ صرف معاشرے میں صحت کے حوالے سے بیداری پیدا کرے گی،

کرکٹ اسٹار اسمرتی مندھانا کے گھر میں شادی کی افواہوں نے خوب سرخیاں بٹوری تھیں۔ اب ان کے بھائی نے اس پر خاموشی توڑی ہے اور 7 دسمبر کی شادی کی خبروں کا حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔

شو کے ہوسٹ سلمان خان نے اسے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اگرچہ اشنور کور نے کہا کہ یہ سب غلطی سے ہوا اور ان کا کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہ تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  شو کی ٹیم نے اسے فزیکل وائلنس کے زمرے میں شامل کیا

مداحوں اور سیلیبریٹیز نے کمنٹس کے ساتھ مبارکباد دینا شروع کر دی۔ قابلِ ذکر بات یہ  ہے کہ یہ جوڑا اکتوبر 2025 میں کورٹ میرج کر چکا ہے، جو کہ انٹر فیتھ میرج تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹ کے مطابق پلاش مچھل جس خاتون کے ساتھ چیٹنگ کر رہے ہیں، ان کی دوست کا نام میری ڈی کوسٹا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ ڈی کوسٹا نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر چیٹ کے اسکرین شاٹس شیئر کیے،

سہاسنی مولے کے مطابق: وہ کھڑے نہیں ہو پاتے تھے، مگر فینز آتے تو وہ ان کے ساتھ بیٹھ کر تصویریں کھنچواتے۔ انہوں نے کبھی کسی کو منع نہیں کیا۔ اتنے بڑے اسٹار ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی کسی کو اپنے مقام کا احساس نہیں ہونےدیا۔

مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: "شادی کسی بھی دوسرے پیشے میں عورت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اگر کوئی خاتون صحافی شادی کرتی ہے تو کیا وہ کام کرنا چھوڑ دیتی ہے؟

راجستھان کے رکن اسمبلی رویندر سنگھ بھاٹی نے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ فرحان اختر کی فلم ’’120 بہادر‘‘ کو ٹیکس فری کیا جائے۔ یہ فلم 21 نومبر 2025 کو ریلیز ہونے والی ہے اور یہ 1962 کی ریزانگ لا جنگ پر مبنی ہے۔

اجیت رائے کی شخصیت اتنی وسیع تھی کہ وہ صرف نقاد نہیں، بلکہ ایک استاد، سرپرست اور تحریک کا ذریعہ بھی تھے۔ ان کے کئی شاگرد آج بھی یاد کرتے ہیں کہ کیسے انہوں نے نوآموز صحافیوں کو حوصلہ دیا، انہیں مواقع فراہم کیے اور ان کے کیریئر کو نئی سمت دی۔