Bharat Express DD Free Dish

Election Commission

آرجے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے الیکشن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن خود سامنے نہیں آنا چاہتا، اس لئے سوتروں (ذرائع) کے حوالے سے خبرپلانٹ کررہا ہے۔ یہی وہی ذرائع ہیں، جنہوں نے لاہور اور کراچی پر قبضہ کر لیا تھا۔

 پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو سے خصوصی گہرائی کے جائزے  کے دوران مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ملے نیپا، بنگلہ دیش اور میانمار کے لوگوں پر سوال پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’خود سامنے آنے کے بجائے الیکشن کمیشن ذرائع کے حوالہ سے خبر پلانٹ کروا رہا  ہے تاکہ اس کی آڑ میں کھیلا کر سکے، یہ وہی ذرائع ہیں جو آپریشن سندورکے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی پر قبضہ کر چکے تھے۔‘‘

سپریم کورٹ میں کل 11 عرضیاں سنوائی کے لئے لگی تھیں۔ ان میں این جی او ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس اورپیپلزیونین سول لبرٹیزکے علاوہ کانگریس، آرجے ڈی اورٹی ایم سی جیسی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کی بھی عرضی تھی۔ عرضی گزارفریق نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن ناگرکتا یعنی شہریت کی جانچ نہیں کرسکتا۔

سپریم کورٹ نے بہارکے اسپیشل انٹینسیوریویژن (ایس آئی آر) کی سماعت کی۔ درخواست گزارنے ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے عمل پر سوالات اٹھائے، ساتھ ہی آدھارکارڈ کو تسلیم نہ کرنے پر سوال اٹھایا گیا۔

پروفیسر انجینئر محمد سلیم نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی، لیکن جس طرح سے ان لوگوں کو محسوس ہوا کہ الیکشن کمیشن حکومت کے دباؤ میں ہے، یہ ملک کے لئے اورہماری جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔

جے رام رمیش نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔

پپو یادو نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری جنگ ہے۔ ہمیں عوام کے درمیان جا کر ان کے حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو میں اپوزیشن سے درخواست کروں گا کہ وہ سڑکوں پر آکر اس تاناشاہی کے خلاف آواز بلند کریں۔

جن افراد کے نام 2003 کی فہرست میں شامل ہیں، انھیں صرف اپنی تفصیلات کی تصدیق کرنے اور مکمل شدہ گنتی فارم جمع کرانے کی ضرورت ہے۔

ریاست میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات بھی متوقع ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ موبائل ووٹنگ کی سہولت اُس وقت بھی فراہم کی جائے گی یا نہیں۔

تیجسوی نے کہا کہ بہار کے 3 کروڑ لوگ روزگار کے لیے دوسری ریاستوں میں رہتے ہیں۔ ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ مزدور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیسے کریں گے؟