Bharat Express DD Free Dish

Eknath Shinde

سب سے پہلے گھاٹ کوپر میں ایک تین منزلہ عمارت گر گئی۔ اس کے بعد دوپہر کے وقت ویل پارلے علاقے میں ناناوتی اسپتال کے قریب گراؤنڈ پلس تین منزلہ عمارت گر گئی۔ عمارت میں پھنسے پانچ افراد کو باہر نکال کر کوپر ہسپتال بھیج دیا گیا۔ اس حادثے میں دو لوگوں کی موت واقع ہو گئی ہے۔

مہاراشٹر میں ادھوٹھاکرے اورایکناتھ شندے گروپ دونوں ہی شیوسینا کی یوم تاسیس 19 جون کو منانے جا رہے ہیں۔ پارٹی ٹوٹنے کے بعد ادھو گروپ کا سب سے بڑا انعقاد ہے، جس میں پورے ملک کے لیڈران کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

مرکز پر حملہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے ان سے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم نامردوں کی اولاد نہیں ہیں۔ اگر آپ ای ڈی ، سی بی آئی کی طاقت دکھانا چاہتے ہیں تو منی پور جا کر دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے مودی جی امریکہ جا رہے ہیں۔ ارے تم منی پور جا کر دکھاؤ۔ امریکہ جا سکتے ہیں، لیکن منی پور نہیں جائیں گے۔

Maharashtra Politics: شیو سینا میں دو گروپ میں منقسم ہونے کے وقت منیشا کائندے نے ادھو ٹھاکرے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن اب انہوں نے ایکناتھ شندے کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Shiv Sena BJP Alliance: مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا اور بی جے پی اتحاد والی حکومت ہے۔ اب اس اتحاد میں اختلافات پیدا ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔

Aurangzeb Status: مہاراشٹر کے کولہا پور میں اورنگ زیب کی تصویر اسٹیٹس پر لگانے کے الزام پر ہندو تنظیموں کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 19 جون تک علاقے میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ اور سابق سی ایم ادھو ٹھاکرے غیر ملکی دورے پر ہیں، ایسے وقت میں شرد پوار وزیراعلیٰ سے ملنے آئے ہیں۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد دونوں لیڈروں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے۔

راجیہ سبھا کا رکن پارلیمنٹ ونائک راؤت نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کی شندے حکومت جلد ہی گرنے والی ہے کیونکہ شندے کے 22 اراکین اسمبلی اور 9 اراکین پارلیمنٹ ان سے ناراض چل رہے ہیں اور ادھو کیمپ میں واپسی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ جہاں شیو سینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے اخلاقی بنیادوں پر سی ایم ایکناتھ شندے سے استعفیٰ کی ماانگ کی گئی ہے

Maharashtra Politics: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ”گوگاوالے (شندے گروپ) کو شیو سینا پارٹی کے چیف وہپ کے طور پر تقرری کرنے کا اسپیکر کا فیصلہ غیرقانونی تھا۔“