Bharat Express DD Free Dish

Droupadi Murmu

سینئر اکیڈمک رول نبھانے والے عاشم کمار گھوش کو صدرجمہوریہ دروپدی مرمو نے ہریانہ کا گورنر بنایا ہے۔ انہیں ہائی ایجوکیشن میں کافی انتظامی تجربہ ہے، جس کا فائدہ اب ہریانہ کوملے گا۔ وہ جلدی ہی گورنر کا عہدہ سنبھالیں گے۔

پروفیسرمظہرآصف نے صدرجمہوریہ ہند کواقلیتوں کی تعلیم، قومی ہم آہنگی اورسماجی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویزپیش کیں اوران پرعمل درآمد کی ضرورت پرزوردیا۔ انہوں نے صدرجمہوریہ کواپنے جاری تحقیقی منصوبوں سے بھی آگاہ کیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے عیدالاضحیٰ پر ہم وطنوں کو مبارکباد دی ہے۔ دونوں نے اسے ایکس پوسٹ کے ذریعے اسے ہم آہنگی اور امن کے تانے بانے میں بنے تہوار سے تعبیر کیا ہے۔

وقف ترمیمی بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس ہونے کے بعد اب قانون بھی بن گیا ہے۔ اسے صدرجمہوریہ کی منظوری مل گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 128 ووٹ اور خلاف میں 95 ووٹ پڑے تھے۔ لوک سبھا میں اس کے حق میں 288 اور اپوزیشن میں 232 ووٹ پڑے تھے۔ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

صدر دروپدی مرمو نے یوم جمہوریہ کے موقع پر قوم سے خطاب کیا ہے۔ اپنے خطاب میں صدر نے کہا کہ اس دن ہم سب سے پہلے ان بہادر سپاہیوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے کے لیے سب سے بڑی قربانیاں دیں۔

جسٹس کھنہ اتوار کو ریٹائر ہونے والے جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی جگہ لیں گے اور ان کی میعاد 13 مئی 2025 تک ہوگی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دیوالی پر ہم وطنوں کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے لکھا، "تمام ہم وطنوں کو دیوالی کی مبارک باد پیش کی ۔"

صدر دروپدی مرمو نے معیزو کا ہندوستان پہنچنے پر خیرمقدم کیا، موئزو نے پی ایم مودی سمیت کئی لیڈروں کا استقبال کیا۔ Muizzu کا بڑا بیان انہوں نے ٹائمس آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں کہا، "مالدیپ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کرے گا جس سے ہندوستان کی سلامتی کو نقصان پہنچے۔

مغربی بنگال جونیئر ڈاکٹرزفرنٹ کی طرف سے لکھے گئے چار صفحات پر مشتمل اس خط کی کاپیاں نائب صدر جگدیپ دھنکھر اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا کو بھی بھیجی گئی ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ کوآپریٹو اداروں نے غربت کے خاتمے، خوراک کی حفاظت اور قدرتی وسائل کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن اس تیزی سے بدلتے وقت میں انہیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہیں ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے اور انتظامیہ کو مزید پیشہ ورانہ بنانا چاہیے۔