Bharat Express DD Free Dish

Dr. Indresh Kumar

"بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں" میں شامل پروفیسر اختر نے وقف ترمیمی بل پر چلایا تاریخی عوامی بیداری مہم۔ تعلیم، حب الوطنی اور وقف اصلاحات سے بنائی متاثر کن پہچان

حضرت سید شاہ محمد نظامیؒ، سجادہ نشینِ درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ (دہلی) کے وصال سے پورا ملک سوگوار ہے۔ ان کا انتقال صرف مسلم برادری ہی نہیں بلکہ بھارت کی مشترکہ تہذیبی وراثت، صوفی روایت اور صدیوں پر محیط گنگا–جمنی تہذیب کے لیے ایک گہرا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

ہریدوار ضلع کے منگلور میں واقع ہیونز پیلس میں جشنِ امام حسینؑ گولڈن جوبلی سمینار کا دوسرا سیشن نہایت وقار، فکری گہرائی اور روحانی ماحول میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ملک کے ممتاز قومی مفکرین، دانشوروں، ماہرینِ تعلیم اور مذہبی لیڈروں نے واقعۂ کربلا کے آفاقی پیغام—سچ، انصاف، قربانی، اتحاد اور انسانیت—پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسے موجودہ دور کے ہندوستان کے لیے ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا

تعلیمی اور انتظامی شعبوں کی ممتاز شخصیات، جیسے پروفیسر ڈاکٹر شاہد اختر اور کرنل طاہر مصطفیٰ، مباحثے میں فکری وژن شامل کریں گی اور تعلیم کے کردار کے ساتھ ساتھ ادارہ جاتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالیں گی، جو قومی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اتحاد، تنوع اور قومی ترقی میں اقلیتی تعلیم کے کردار پر غور کے لیے لکھنؤ میں نامور رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کا اجتماع

معروف رہنما، علما اور سماجی کارکنان ’’ہندوستان فرسٹ، ہندوستانی بہترین‘‘ کے تحت بدلتے ہوئے قومی بیانیے پر غور و خوض کریں گے۔

مسلم راشٹریہ منچ کے کنونشن میں اندریش کمار، سینئر رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال، سابق مرکزی وزیر ستیہ نارائن جاٹیا، اجمیر شریف درگاہ کے چیئرمین خواجہ نصرالدین، آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے چیف امام مولانا عمیرالیاسی، این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین ڈاکٹر شاہد اختر، ڈاکٹر شالنی علی وغیرہ نے خطاب کیا۔

دہلی کے تین مورتی-ہائیفا چوک پرہائیفا وجے دیوس منایا گیا۔ پروگرام میں ہندوستان-اسرائیل کی دوستی اور شہیدوں کی قربانی کو یادکیا گیا۔ اس موقع پرآرایس ایس لیڈراندریش کمارنے کہا کہ بھارت وِشوگروتھا، ہے اوررہے گا۔

آرایس ایس اور مسلم راشٹریہ منچ کی میٹنگ میں باہمی مذاکرات، ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے جذبے کومضبوط کرنے پرزوردیا گیا۔ میٹنگ میں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کئی اہم مشورے دیئے۔

مسلم راشٹریہ منچ کی امن یاترا نے ثابت کیا – 'کشمیر بھارت کی روح، ہم سب ایک ہیں۔ ترنگے کی چھاؤں میں جڑے دل، پہلگام میں بھائی چارے کی گونج۔