Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جنگ سے تباہ حال غزہ پٹی پر قبضہ کرے گا اور فلسطینیوں کو کسی دوسری جگہوں پر بسائے جانے کے بعد اسے معاشی طور پر ترقی دے گا۔ غزہ کو ترقی دینے کی تجویز دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ حالانکہ بعد میں وائٹ ہاؤس نے اس پر صفائی دی تھی کہ غزہ سے کوئی بھی نقل مکانی عارضی ہو گی۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

منگل کے روز، ٹرمپ نے غزہ کی ترقی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ان پر نسلی کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب رہنماؤں نے اس کی مذمت کی ہے۔

اپوزیشن نے ا مریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہندوستانیوں کی ملک بدر کئے معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ کیا۔ صبح 11 بجے پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے اس معاملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ امریکہ سے ڈی پورٹ کیے جانے والے ہندوستانیوں کو ہتھکڑیاں اور بیڑیوں میں لایا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مؤقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مملکت کا طویل مدت سے یہی نظریہ ہے کہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست ہونی چاہیے اور یہ ایک پختہ مؤقف ہے جس پر مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

امریکہ سے ملک بدر کیے گئے 104 ہندوستانیوں کو لے کر ایک امریکی فوجی طیارہ بدھ (5 فروری) کو سری گرو رام داس جی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔

ریپبلکن سینیٹرز کا کہنا ہے کہ اس قوانین سے امیگریشن قوانین کی نگرانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سینیٹر جان کینیڈی نے اسے "خطرناک" قرار دیا اور کہا کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو کمزور کرتا ہے۔

یاد رہے کہ عرب لیگ کے ساتھ ساتھ مصر اور اردن دونوں کی حکومتوں نے ہفتے کے آخر میں  اپنے بیانات میں اس خیال کو یکسر مسترد کر دیاتھا۔ پانچ عرب ممالک اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کیاتھا۔

چین کی جانب سے امریکی مصنوعات پر عائد کردہ ٹیرف کا اطلاق پیر (10 فروری) سے ہوگا۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں نئے ٹیرف کا اعلان کیا ہے۔