Bharat Express DD Free Dish

Divorce Case

سنگیتا نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہو کر عرضی واپس لینے کی اطلاع دی۔ جج نے تقریباً 15 منٹ تک پوچھ گچھ کے بعد درخواست منظور کرلی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فیملی کورٹ میں جاری قانونی لڑائی ختم ہوگئی ہے۔

سیاست میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے تملگا ویٹری کزگم کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی سیاسی اور عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ان کی نجی زندگی سے متعلق معاملات بھی عوام اور میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ سیلینا جیٹلی ایک بار پھر اپنی نجی زندگی کے باعث خبروں میں ہیں۔ شوہر پیٹر ہیگ سے طلاق اور بچوں کی تحویل (کسٹڈی) کے معاملے پر جاری تنازع کے درمیان انہوں نے شوہر اور سسر کی جانب سے بھیجے گئے قانونی نوٹسز پر کھل کر ردِعمل ظاہر کیا ہے۔

میرٹھ میں ایک شخص نے اپنی بیٹی کے طلاق ہونے پر غم منانے کے بجائے اسے "نئی شروعات" کے طور پر منایا۔ ’I Love My Bitiya‘ لکھی ٹی شرٹ پہن کر انہوں نے ڈھول نگاڑوں کے ساتھ اپنی بیٹی کی گھر واپسی کرائی۔

زوہو کے فاؤنڈر شری دھر ویمبو کی طلاق اب تاریخ کی سب سے مہنگی طلاق بننے جا رہی ہے۔ دراصل امریکی عدالت نے پرمیلا شری نیواسن کی درخواست پر شری دھر سے 1.7 ارب ڈالر یعنی تقریباً 15 ہزار کروڑ روپے کے بانڈ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

 ارمیلا ماتونڈکر کی 8 سال کی شادی ٹوٹ گئی ہے۔ خبر ہے کہ اداکارہ نے شوہرمحسن خان سے طلاق کے لئے عدالت میں عرضی داخل کردی ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے پاگل پن کی بنیاد پر بیوی سے طلاق کے لئے داخل کی گئی ایک اپیل خارج کردی۔ اس پرعدالت نے کہا کہ اہلیہ تعلیم یافتہ خاتون ہے۔ اس نے گریجویشن کی پڑھائی مکمل کی ہے۔ عرضی میں ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا، جس سے یہ عدالت گزشتہ عدالت کے حکم میں کسی بھی طرح سے کوئی مداخلت کرسکے۔

سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی عرضی پر پائل عبداللہ کونوٹس جاری کیا ہے۔ عمرعبداللہ اپنی اہلیہ سے طلاق چاہتے ہیں، لیکن انہیں فیملی کورٹ اورہائی کورٹ سے جھٹکا لگ چکا ہے، جس کے بعد انہوں نے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج دیا ہے۔

سیما حیدر کے پہلے شوہر غلام حیدر اپنے بچوں کو واپس لینے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ غلام حیدر کے بھارتی وکیل نے صدر پاکستان اور نیپال کے صدر کو خط لکھا ہے۔ اس خط میں غلام حیدر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بچے اپنی مرضی سے بھارت نہیں گئے

اس کیس کے تحت 'خلع' کے عمل کے تحت ایک مسلم خاتون کی اس کے شوہر سے علیحدگی کو مسلم میرج ایکٹ کے تحت کیرالہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ شادی کو تحلیل کرنے کا حق مسلم بیوی کا مکمل حق ہے، جو اسے قرآن نے دیا ہے اور یہ اس کے شوہر کی رضامندی یا مرضی سے مشروط نہیں ہے۔