Bharat Express DD Free Dish

Digvijaya Singh Statement

دگ وجے سنگھ نے اپنے بیانات سے یوٹرن لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے مخالف رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اس سے قبل ہفتے کے روز دگ وجے سنگھ نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک تصویر شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے مودی کی کھل کر تعریف کی تھی۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد کو براہِ راست بھارت کی اندرونی صورتحال سے جوڑتے ہوئے اسے ’ری ایکشن‘ یعنی ردِعمل قرار دیا ہے۔

دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ہم ایف آئی آر درج کرانے تھانے آئے تھے لیکن یہاں سندر کانڈ کا پاٹھ ہورہا ہے۔میں بھی 10 سال وزیراعلیٰ رہا ہوں اور یہ کوئی اصول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس افسر نے کہا کہ اس نے سندر پاٹھ کا اہتمام کیا تھا کیونکہ یہاں ایک عام آدمی کی سالگرہ تھی۔

کانگریس لیڈر دگ وجئے سنگھ نے بھی بی جے پی کے نعرے کے 400 کو پار کرنے کے سوال پر طنز کیا اور کہا کہ یہ خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے 543 کے پار نہیں کہی۔ اس سے قبل 18 مئی کو بھی کانگریس لیڈر دگ وجے نے مہنگائی، کسانوں اور بے روزگاری کے مسائل پر مرکزی حکومت کو گھیرا تھا۔

بی جے پی کی تین مرکزی ریاستوں  راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں اسمبلی انتخابات جیتنے کے چند دن بعد دگ وجئے  سنگھ نے ای وی ایم کے قابل اعتماد ہونے پر بحث چھیڑ دی ہے۔انہوں نے ایکس پر لکھا کہ چپ والی کسی بھی مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔ میں نے 2003 سے ای وی ایم کے ذریعے ووٹنگ کی مخالفت کی ہے۔

سابق وزیر اعلی نے کہا تھا کہ مدھیہ پردیش میں بجرنگ دل پر پابندی نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ اس میں کچھ اچھے لوگ بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم فساد اور انتشار پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔

کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے اپنے ایک بیان میں دہشت گرد اسامہ بن لادین کو 'اسامہ جی' کہہ کر مخاطب کیا۔ ان کے اس بیان پربھی کافی تنازعہ ہوا تھا۔