Bharat Express DD Free Dish

Delhi heatwave

محکمہ موسمیات کے مطابق جنوب مغربی مانسون اگرچہ کیرلم میں اپنی معمول کی تاریخ سے چند دن تاخیر سے پہنچا، تاہم اس کے بعد اس کی رفتار میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ مانسون 4 جون کو کیرلم پہنچا، جبکہ اس کی معمول کی آمد یکم جون کو متوقع تھی۔ اس سے قبل محکمہ موسمیات نے 26 مئی تک مانسون کے کیرلم پہنچنے کا اندازہ ظاہر کیا تھا، لیکن موسمی حالات کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔

محکمۂ موسمیات نے جون کے پہلے ہفتے ہی اشارہ دیا تھا کہ این سی آر کے باشندوں کو چند روز تک شدید گرمی اور لُو سے نجات مل سکتی ہے۔ تازہ پیش گوئی بھی اسی امکان کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے اپنے پیغام میں جانوروں اور پرندوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی میں انہیں بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گھر، بالکونی، چھت، دکان یا دفتر کے باہر پانی سے بھرا ایک چھوٹا برتن رکھنا کسی پیاسے پرندے کے لیے زندگی بچانے کے برابر ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ڈی کی جانب سے جاری لوکل ویدر رپورٹ اور پیش گوئی کے مطابق 23 مئی سے 28 مئی تک مسلسل ہیٹ ویو کی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ محکمہ نے اس دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 44 سے 45 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

شدید گرمی کا سب سے خوفناک منظر مدھیہ پردیش میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں پورا صوبہ شدید لو کی زد میں ہے۔ محکمہ موسمیات نے بھوپال، گوالیار، جبل پور اور ساگر سمیت 37 اضلاع میں خطرناک ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے 3 اور 4 مئی کے لیے ’یلو الرٹ‘ جاری کیا ہے، جس کے تحت بارش اور تیز ہواؤں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات ہند کے مطابق، اتوار اور پیر کو دہلی میں ہلکی سے درمیانی بارش ہو سکتی ہے۔ اس دوران 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے، جو بعض اوقات 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہیں۔

این ایچ آر سی کی جانب سے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ارسال کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ ان طبقات میں غریب اور مزدور طبقہ، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے افراد، بزرگ شہری، بچے، نوزائیدہ اور خاص طور پر بے گھر افراد شامل ہیں، جو شدید گرمی کے دوران سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تیز ہواؤں اور گرد و غبار کے باعث اے کیو آئی میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ شدید گرمی میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پیئیں اور حساس افراد ماسک کا استعمال کریں۔

ماہرین کے مطابق اس سال مارچ کے مہینے میں ہی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہوا میں نمی کی کمی کے باعث آلودہ ذرات زمین کے قریب ہی جمع ہو رہے ہیں جس سے سانس لینے میں دشواری بڑھ رہی ہے۔

بارش اور طوفان کے باوجود درجہ حرارت میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی موسمیاتی تبدیلی کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس قسم کا موسم نہ صرف عام لوگوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ کسانوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔