Bharat Express DD Free Dish

conversion case

مہاراشٹر کے ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) دفتر سے جڑے مبینہ مذہبی تبدیلی اور ہراسانی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس کیس کی مرکزی ملزمہ اور کمپنی کی ایچ آر ندا خان کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

چھتیس گڑھ کے راج ناندگاؤں ضلع میں چرچ کی آڑ میں چل رہے مبینہ مذہب تبدیلی کے معاملے کا پردہ فاش ہوا ہے۔ ملزم ڈیوڈ چاکو پر نابالغ بچوں کو رکھنے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ہندوستان  اور بنگلہ دیش میں کیے گئے سروے کے مطابق یہاں مذہبی استحکام سب سے زیادہ ہے۔ یہاں 99فیصد ہندو اور مسلمان اپنے پیدائشی مذہب پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہ مذہبی ثقافت، خاندانی اقدار اور مذہبی سماجی ڈھانچے کی مضبوطی کی علامت ہے۔

مذہب تبدیلی معاملے میں این آئی اے-اے ٹی ایس کورٹ نے 14 ملزمین کو قصوروارقراردیا ہے۔ اس میں سے 10 ملزمین کو عمر قیدکی سزا سنائی گئی ہے جبکہ چار افراد کو 10 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

این آئی اے اے ٹی ایس کورٹ کے جج وویکا نند شرن ترپاٹھی کے ذریعہ سبھی ملزمین کو کل سزا سنائی جائے گی۔ ملزمین کو قصوروارقرار دیئے جانے والی دفعات میں 10 سال سے لے کرعمرقید کی سزا تک کا التزام ہے۔

بریلی کے مولانا توقیررضا خان نے 21 جولائی کو 5 ہندو جوڑوں کا نکاح اور مذہب تبدیلی کرانے کے لئے پروگرام کے لئے ضلع انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی، جوکہ نہیں ملی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نکاح کروانے کا پروگرام منسوخ کردیا ہے۔

ہائی کورٹ نے مذہب تبدیلی کے ملزم آندھرا پردیش کے سرینواس راؤ نائک کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ مہاراج گنج کے نچلاول پولیس اسٹیشن میں سرینواس راؤ نائک اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

عدالت کے فیصلے کے بعد تارا نے کہا کہ میں عدالت اور سی بی آئی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے مجھے انصاف دیا، یہ انصاف صرف میرے لیے نہیں، ملک کی ہر بیٹی کو یہ اعتماد ملے گا کہ جو بھی ان کے ساتھ ایسا کرے گا اسے سزا ملے گی۔