Bharat Express DD Free Dish

TCS Nashik Case: ناسک ٹی سی ایس کیس میں ملزمہ ندا خان کو بڑا جھٹکا، عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیجا

مہاراشٹر کے ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) دفتر سے جڑے مبینہ مذہبی تبدیلی اور ہراسانی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس کیس کی مرکزی ملزمہ اور کمپنی کی ایچ آر ندا خان کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

ممبئی: مہاراشٹر کے ناسک میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) دفتر سے جڑے مبینہ مذہبی تبدیلی اور ہراسانی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس کیس کی مرکزی ملزمہ اور کمپنی کی ایچ آر ندا خان کو عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پولیس نے ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد ندا خان کو ناسک روڈ عدالت میں پیش کیا، جہاں سماعت کے بعد عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالتی حکم کے بعد پولیس ندا خان کو ناسک روڈ سینٹرل جیل منتقل کرنے کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس سے قبل وہ پولیس ریمانڈ میں تھیں، جہاں تفتیشی افسران نے ان سے کیس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی پوچھ گچھ کی۔ پولیس کے مطابق معاملہ حساس نوعیت کا ہے، اس لیے تحقیقات انتہائی احتیاط اور نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔

مہاراشٹر پولیس نے ندا خان کو 7 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں چھترپتی سمبھاجی نگر کے نریگاؤں علاقے میں واقع قیصر کالونی کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ سے حراست میں لیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اپنے والدین، بھائی اور خالہ کے ساتھ وہاں مقیم تھیں۔ پولیس ٹیمیں دو دن تک اس مقام پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھیں، جس کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔ یہ گرفتاری ناسک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی)، چھترپتی سمبھاجی نگر پولیس کمشنریٹ اور کرائم برانچ کی مشترکہ کارروائی کے دوران کی گئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سینئر افسران کی نگرانی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس نے تکنیکی نگرانی اور خفیہ اطلاعات کی مدد سے ندا خان کا سراغ لگایا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی گئیں اور بعد ازاں ندا خان کو ٹرانزٹ ریمانڈ کے لیے مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت سے اجازت ملنے کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے ناسک منتقل کیا گیا، جہاں پولیس نے ان سے مبینہ مذہبی تبدیلی، ذہنی ہراسانی اور دیگر الزامات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی۔ ایس آئی ٹی نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ندا خان دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے میں مطلوب تھیں۔ حکام کے مطابق ان کی گرفتاری بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی متعلقہ دفعات کے تحت عمل میں لائی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید افراد کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید گرفتاریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ فریق کی شکایت کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ دفتر کے اندر کچھ ملازمین پر مذہبی دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اگرچہ پولیس نے ابھی تک تفصیلی شواہد عوامی طور پر جاری نہیں کیے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس معاملے نے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی تنظیموں نے اس کیس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے غیر جانبدارانہ کارروائی کر رہی ہے۔ عدالت کی جانب سے عدالتی تحویل میں بھیجے جانے کے بعد اب اس مقدمے کی اگلی سماعت مقررہ تاریخ پر ہوگی، جہاں تفتیشی ایجنسی اپنی پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read