Bharat Express DD Free Dish

Congress

ذرائع کے مطابق، اب جنرل سکریٹری اور انچارج کے ساتھ مقرر کیے گئے سکریٹریوں کو متعلقہ ریاستوں میں ہر ماہ کم از کم 15 سے 20 دن گزارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد صرف ریاستوں کا دورہ کرنا نہیں بلکہ تنظیمی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی کرنا اور مرکزی قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔ سکریٹریوں کو ریاستوں میں واضح ذمہ داریاں بھی دی جائیں گی۔

سپریا شرینیت نے کہا کہ مہنگائی اس لیے مزید خوفناک ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب بے روزگاری بھی بہت زیادہ ہے اور اجرت کی شرح بھی انتہائی کم ہے۔ لوگوں کی آمدنی میں بھی کمی آئی ہے اور گھریلو آمدنی کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو بچت اپنی کم ترین سطح پر ہے اور لوگ اپنی زندگی گزارنے کے لیے سونا تک گروی رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

بی جے پی نے 9,290 امیدوار میدان میں اتارے تھے، جبکہ کانگریس نے 9,027 امیدواروں کو ٹکٹ دیا تھا۔ آزاد امیدواروں کی تعداد 18,732 تھی۔ میدان میں موجود دیگر جماعتوں میں آر ایل پی کے 948، عام آدمی پارٹی کے 311، بی ایس پی کے 298، سی پی آئی (ایم) کے 185 اور بی اے پی کے 98 امیدوار شامل تھے۔

راہل گاندھی نے ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ بی جے پی کارکن کی جانب سے دائر کی گئی شکایت قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا تھا اور نہ ہی کسی قابلِ شناخت یا متعین طبقے کو نشانہ بنایا تھا۔ ایسے میں کوئی فرد یا گروہ واضح طور پر متاثرہ فریق نہیں بنتا۔

سچن پائلٹ کے سامنے پنجاب میں سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے مختلف گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پرلانا ہوگا۔ چرن جیت سنگھ چنی، راجا وڈنگ اور دیگراہم لیڈران کے درمیان اختلافات کے ماحول میں تنظیمی اتحاد قائم کرنا اور کارکنوں کو انتخابی تیاریوں کے لیے متحرک کرنا سچ پائلٹ کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔

کانگریس لیڈر عمران مسعود نے کہا کہ مذہبی مقام کہیں کا بھی ہو، اسے توڑنا افسوسناک ہے۔ یہ ایسے مذہبی مقامات ہیں جو ملکوں کے وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں، انہیں منہدم کرنا مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔

اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات میں سیٹوں کی تقسیم اور کانگریس کی جانب سے 115 سے 120 نشستوں کے مطالبے پر عمران مسعود نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ اعداد و شمار کہاں سے آئے ہیں۔

راہل گاندھی کو مستقبل کا وزیر اعظم قرار دیتے ہوئے عاصم وقار نے کہا کہ مجھے یہ بات بہت عرصے سے معلوم ہے۔ میں گزشتہ 5 سال سے یہ کہہ رہا ہوں کہ ملک کے مستقبل کے وزیر اعظم راہل گاندھی ہیں۔

 یوپی اسمبلی الیکشن سے پہلے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان عاصم وقارکانگریس میں شامل ہوگئے ہیں۔ کانگریس انچارج راجیندرپال گوتم، آل انڈیا اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی اور ریاستی صدراجے رائے کی موجودگی میں کاکنگریس میں سدالدین اویسی کا ساتھ چھوڑکر کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن سے پہلے اسدالدین اویسی کے لئے یہ بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ترجمان ڈاکٹر عبدالمنان اے آئی ایم آئی ایم چھوڑکر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔

 یوپی الیکشن سے پہلے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان عاصم وقار نے اسدالدین اویسی کا ساتھ چھوڑکر کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکشن سے پہلے اسدالدین اویسی کے لئے یہ بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ترجمان ڈاکٹر عبدالمنان اے آئی ایم آئی ایم چھوڑکر سماجوادی پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔