Bharat Express DD Free Dish

congress leader

راہل گاندھی نے مزید کہا کہ بی جے پی ایسی حکومت چاہتی ہے جو اس کے اشاروں پر چلے، لیکن تمل ناڈو کے عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا ’’چاہے وہ کچھ بھی خواب دیکھیں، وہ نہ تمل ناڈو کے عوام کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی یہاں کی حکومت کو۔‘‘

سپریا شرینیت نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی بنیاد کانگریس نے ہی رکھی تھی، جب پنچایتی راج انتخابات میں 33 فیصد ریزرویشن دیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں لاکھوں منتخب خواتین نمائندے اسی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کرے گی تو اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

ایک طرف عدالت میں اس کی سماعت جاری ہے، تو دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عدالت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتی عمل میں فریقین کو مکمل موقع دینا بنیادی اصول ہے۔ حتمی فیصلہ آنے تک یہ معاملہ زیر سماعت رہے گا اور اس کے نتائج مستقبل کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عدالت اس وقت ایک نظرثانی عرضی کی سماعت کر رہی ہے، جو مجسٹریٹ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا گیا تھا۔ گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے یہ اہم سوال اٹھایا تھا کہ اگر سونیا گاندھی 1983 میں شہری بنی تھیں تو 1980 میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں کیسے شامل ہوا۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن اور حد بندی بل پر بحث کے دوران راہل گاندھی کے دائیں ہاتھ پر پٹی نظر آئی۔ اسپیکر اوم برلا کے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ چوٹ جاپانی مارشل آرٹ ’جو جِتسو‘ کھیلتے وقت لگی۔ جانیے بل گرنے پر راہل گاندھی نے کیا کہا؟

پٹیالہ سے کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر دھرمویر گاندھی نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ جب وہ پٹیالہ سے عام آدمی پارٹی کے ایم پی تھے تو راگھو چڈھا نے انہیں ایک خط دیا، جسے انہوں نے وہیں پھاڑ کر ان کے منہ پر پھینک دیا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان کے بعد مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں ایل پی جی کی دستیابی کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف وہ حکومت پر تنقید کر رہی ہے اور دوسری طرف اس کے سینئر رہنما اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں۔ 

آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔