Bharat Express DD Free Dish

Central Government

پاناما پیپرز کا معاملہ 3 اپریل 2016 کو اُس وقت منظرعام پر آیا تھا، جب جرمن اخبار ’’زیتوشے زائتونگ‘‘ نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔

ایک اور نمایاں کسان رہنما دھرمیندر ملک نے حکومت سے پالیسی پر قائم رہنے کی اپیل کی:"ہم وزیر اعظم اور وزیر زراعت کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ آپ اسی مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"

درخواست گزار نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ یہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور تنقید کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔

رجیجو نے کہا کہ اپوزیشن دوسرے ارکان کو ان کے مسائل اٹھانے سے روک رہی ہے اور اسے عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے بھی ایوان کو ہموار چلانے کی کوششوں کا ذکر کیا، لیکن مسلسل احتجاج کی وجہ سے 4 اگست 2025 کو لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

کسان پروڈیوسر آرگنائزیشن (FPO) ایک ایسا ادارہ ہے جو کسانوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اسے کمپنیز ایکٹ کے تحت یا متعلقہ ریاستوں کے کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے۔

اس سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں 0.25 روپے سے 0.30 روپے فی یونٹ تک کمی آئے گی۔ اس سے عام صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور ساتھ ہی مالی بحران کا شکار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی ریلیف ملے گا۔

یہ معاملہ عدلیہ کی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، خاص طور پر جب بدعنوانی کے الزامات براہ راست اعلیٰ عدلیہ پر لگائے گئے ہوں۔

جسٹس چندرچوڑ، جو نومبر 2024 میں چیف جسٹس کے طور پر ریٹائر ہوئے، نے 18 دسمبر 2024 کو اپنے جانشین جسٹس سنجیو کھنہ کو خط لکھ کر 30 اپریل 2025 تک جگہ خالی کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، اور اس کی اجازت دی گئی تھی۔

وزارت نے مزید ہدایت دی ہے کہ ریاستیں ایک نوڈل افسر بھی مقرر کریں جو وزارتِ ثقافت سے رابطہ رکھے اور ان تقریبات کا مربوط انداز میں انعقاد کرے۔

ہندوستان میں ہر دس سال میں ایک بار مردم شماری کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد ملک کی آبادی، سماجی اور معاشی حالت اور دیگر اہم معلومات کو جمع کرنا ہے، تاکہ حکومت پالیسیاں بنانے اور اسکیموں کا فیصلہ کرنے میں درست فیصلے لے سکے۔