نئی دہلی: جسٹس یشونت ورما کے خلاف تحریک مواخذہ کی تیاریوں میں مرکز نے اہم قدم اٹھا لیا ہے۔ لوک سبھا میں مواخذہ پیش کرنے کے لیے اراکین پارلیمنٹ سے دستخط لینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ جسٹس ورما کے خلاف یہ کارروائی اس وقت تیز ہوئی جب ان کے دہلی کی سرکاری رہائش سے جلی ہوئی کروڑوں روپے کی نقدی برآمد ہوئی تھی۔
جلی ہوئی نقدی، استعفیٰ سے انکار، اب مواخذے کی تیاری
جب دہلی ہائی کورٹ میں تعیناتی کے دوران جسٹس ورما کے گھر آگ لگی تو پولیس کو بڑی مقدار میں جلی ہوئی نقدی ملی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ جانچ کمیٹی نے تصدیق کی کہ یہ نقدی غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی تھی۔ استعفیٰ دینے سے انکار کے بعد حکومت نے قانونی طور پر ہٹانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
100 دستخط درکار، عمل جاری
لوک سبھا میں مواخذہ کی تحریک لانے کے لیے کم از کم 100 ممبران کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق متعدد اراکین پارلیمنٹ پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔ اگر تحریک راجیہ سبھا میں پیش کی جائے تو صرف 50 دستخط کافی ہوتے ہیں، تاہم موجودہ پیش رفت لوک سبھا پر مرکوز ہے۔
مانسون اجلاس میں پیش ہوگا مواخذہ
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے تصدیق کی ہے کہ یہ تحریک 21 جولائی سے شروع ہونے والے مانسون اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ بدعنوانی سے جڑا معاملہ ہے، اس پر سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہم اپوزیشن پارٹیوں سے بھی تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔
دہلی سے الہٰ آباد کی واپسی
جسٹس ورما کو دہلی ہائی کورٹ سے الٰہ آباد ہائی کورٹ واپس بھیج دیا گیا تھا، جو کہ ان کے خلاف کارروائی کی پہلی علامت تھی۔ اب، مواخذے کی شکل میں یہ معاملہ اپنی آئینی انتہا کو پہنچ رہا ہے۔
کیا ہوتا ہے مواخذہ؟
مواخذہ (Impeachment) کے ذریعے کسی جج کو اس کے عہدے سے آئینی طریقے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہ معاملہ عدلیہ کی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، خاص طور پر جب بدعنوانی کے الزامات براہ راست اعلیٰ عدلیہ پر لگائے گئے ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
