Bharat Express DD Free Dish

Impeachment Motion

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر سرخیوں میں، 10 ماہ میں کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کرنے کا دعویٰ

اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی ہے جانچ،آئندہ ہفتے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نوٹس دیے جانے کا امکان

ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی۔

وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ٹرمپ کو مواخذے (امپیچمنٹ) کا خدشہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات نہ جیتے گئے تو ڈیموکریٹس ان کا مواخذہ کر دیں گے۔

مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامی ناتھن کے خلاف مواخذے (امپیچمنٹ) کی کوشش پر 36 سابق ججوں نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ سابق ججوں نے اس اقدام کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کی کوششیں عدالتی خود مختاری کو کمزور کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ججوں پر دباؤ ڈالنے یا انہیں نشانہ بنانے کے ایسے اقدامات جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

ڈی ایم کے اور اس کی اتحادی جماعتوں نے مدراس ہائی کورٹ کے جج جی آر سوامیناتھن کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی مانگ کی ہے۔ 120 اراکینِ پارلیمنٹ کے دستخطوں کے ساتھ لوک سبھا اسپیکر کو نوٹس جمع کرایا گیا ہے۔

جسٹس ورما نے اس پر وضاحت دی کہ ان کے پاس ایسی کوئی نقدی نہیں تھی اور یہ سب ان کو سازش کے تحت پھنسانے کی کوشش ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 28 مارچ کو انہیں دہلی سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا گیا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی کے علاوہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر، روی شنکرپرساد، راجیو پرتاپ روڑی، پی پی چودھری، سپریا سولے اورکے سی وینوگوپال مواخذے کی تحریک پردستخط کرنے والوں میں شامل ہیں۔ پارلیمنٹ اب جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

یہ معاملہ عدلیہ کی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، خاص طور پر جب بدعنوانی کے الزامات براہ راست اعلیٰ عدلیہ پر لگائے گئے ہوں۔

یہ تنازع عدلیہ اور حکومت کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر مواخذے کی تحریک آگے بڑھتی ہے، تو یہ بھارتی عدالتی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا۔ عوام میں اس معاملے پر منقسم رائے ہے؛ کچھ اسے عدلیہ کی خود احتسابی کا عمل سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اسے سیاسی مداخلت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔