Bharat Express DD Free Dish

Central Government

ملک بھر کے قومی شاہراہوں پر سفر اب صرف ڈرائیونگ کا مزہ ہی نہیں بلکہ صفائی کا موقع بھی دے رہے ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے "کلین ٹوائلٹ پکچر چیلنج" کے نام سے ایک منفرد مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے ذریعے مسافروں کو گندے بیت الخلاء کی اطلاع دے کر 1000 روپے کا فاسٹ ٹیگ ریچارج جیتنے کا موقع ملے گا۔

مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر مجوزہ 1,856 میگاواٹ ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی منظوری کی سفارش کی ہے۔ اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھا جاتا ہے، جو پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بحال ہوا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ٹرانس جینڈر خواتین اور بچوں کو بی این ایس ایکٹ کے تحت متاثرین کے طور پر شامل کرنے کے مطالبے پر مفاد عامہ کی عرضی پر مرکزی حکومت اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک میں 3 کروڑ "لکھ پتی دیدی" بنانے کا ہدف رکھا ہے۔ اب تک 2 کروڑ سے زائد بہنیں "لکھ پتی دیدی" بن چکی ہیں۔ ان کی محنت سے گاؤں بدلا ہے، سماج بدلا ہے اور خاندان کی حیثیت بھی بدلی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ انہوں نے ہی مرکزی حکومت کو خط لکھ کر انشورنس پر جی ایس ٹی سے چھوٹ دینے کی بات کی تھی۔ اب مرکزی حکومت اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ کہ ریاستی حکومت نے تمام سوالات کے تسلی بخش جواب دیے، اس کے باوجود اگر ریاست کو چور کہا جائے تو یہ ناقابل قبول ہے۔

بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘

پاناما پیپرز کا معاملہ 3 اپریل 2016 کو اُس وقت منظرعام پر آیا تھا، جب جرمن اخبار ’’زیتوشے زائتونگ‘‘ نے دنیا بھر میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق ہزاروں دستاویزات جاری کی تھیں۔

ایک اور نمایاں کسان رہنما دھرمیندر ملک نے حکومت سے پالیسی پر قائم رہنے کی اپیل کی:"ہم وزیر اعظم اور وزیر زراعت کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ آپ اسی مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ ہم ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"

درخواست گزار نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے کالعدم قرار دیا جائے کیوں کہ یہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے اور تنقید کے حق کو دبانے کی کوشش ہے۔