سپریم کورٹ نے جمعرات کو جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کی درخواست پر مرکز سے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی اس عرض داشت کا بھی نوٹس لیا کہ ’’اس حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل میں کئی تحفظات ہیں۔‘‘
آٹھ ہفتے بعد ہوگی اگلی سماعت
سپریم کورٹ نے اب جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے ماہر تعلیم ظہور احمد بھٹ اور سماجی و سیاسی کارکن احمد ملک کی طرف سے دائر درخواست کو آٹھ ہفتوں کے بعد سماعت کے لیے درج کیا ہے۔ جب ظہور احمد بھٹ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال سنکرانارائن نے جلد سماعت کی درخواست کی تو چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ ’’پہلگام میں جو کچھ ہوا اسے آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہ فیصلہ کرنا پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کا کام ہے۔‘‘
واضح رہے کہ 11 دسمبر 2023 کو سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا تھا، جس کے تحت جموں و کشمیر کو خصوصی ریاستی درجہ حاصل تھا۔ عدالت نے اس وقت یہ بھی ہدایت دی تھی کہ ستمبر 2024 تک یونین ٹریٹری میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں اور ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے۔ حالاں کہ مرکزی حکومت نے ابھی تک واضح طور پر جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے کسی وقت کا اعلان نہیں کیا، تاہم یہ معاملہ حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس کا اعلان ہو سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

