Bharat Express DD Free Dish

Central Government

حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ بندرگاہوں کی سکیورٹی صرف انہی نجی سکیورٹی ایجنسیوں کو سونپی جائے گی جن کے اہلکاروں نے سی آئی ایس ایف سے خصوصی تربیت حاصل کی ہو۔ساحلی علاقوں کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماہی گیری کے مراکز اور فش لینڈنگ سینٹرز پر مستقل پولیس فورس تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ آج متعدد ایسے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے جو کافی عرصے سے زیرغور تھے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے ہمیشہ سماج کے محروم طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے نئی وزارتیں قائم کیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے قبائلی امور کی وزارت قائم کی،

امت شاہ نے کہا کہ حکومت ال نینو کے باعث معمول سے کم بارش اور بعض علاقوں میں ممکنہ خشک سالی کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وزارت زراعت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور کسانوں کو موسمی حالات کے مطابق مناسب فصلوں کی بوائی کے بارے میں بروقت مشورے فراہم کریں۔

قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سرحدی علاقوں میں آبادی کے تناسب میں آنے والی تبدیلیوں کو قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا تھا۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے'ون نیشن، ون الیکشن' پرپارلیمانی کمیٹی سے ملاقات کی۔ انہوں نے بیک وقت انتخابات کی حمایت کرتے ہوئے انہیں وقت، وسائل اور انتظامی کارکردگی کو بچانے کے لئے ضروری قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ نہیں آئے گی اور دہلی حکومت قومی مفاد میں کام کرنے کے لئے تیار ہے بشرطیکہ آئینی اصولوں کا تحفظ ہو۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم کسان) اسکیم کی 23ویں قسط جاری کی تھی۔ اس قسط کے تحت ملک بھر کے 9.44 کروڑ سے زائد کسان خاندانوں کے بینک کھاتوں میں ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر (ڈی بی ٹی) کے ذریعے 18,880 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم منتقل کی گئی۔

جس کے ذریعے ریاست کے قیام سے متعلق تاریخی حقائق کو مناسب مقام دیا جا رہا ہے۔شوبھندو ادھیکاری نے سابق حکومتوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست اور خوشامدانہ طرزعمل کے باعث اس دن کی تاریخی اہمیت کو دبانے کی کوشش کی گئی، قابل ذکر بات یہ ہے ہے کہ اب مغربی بنگال کی حقیقی تاریخ اور اس کے معماروں کو وہ مقام دلایا جا رہا ہے،

مرکزی حکومت نے ڈرگز رولز 1945 میں ترمیم کرتے ہوئے کھانسی کے سیرپ سمیت سیرپ کی شکل میں دستیاب ادویات کی ڈاکٹر کی پرچی کے بغیر فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

آدھار کارڈ کو شہریت، مستقل رہائش اور رہائشی پتے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیے جانے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ مرکز، ریاستوں اور الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ آدھار کا استعمال صرف شناخت کی تصدیق تک محدود رکھا جائے۔

منگل کے روز ضلع پلوامہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آغا روح اللہ مہدی نے کہا کہ وہ مجوزہ احتجاج کا حصہ ضرور بنیں گے، لیکن اس جدوجہد کو محض ایک روزہ سیاسی پروگرام تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک مسلسل، منظم اور وسیع سیاسی تحریک کی ضرورت ہے۔