Bharat Express DD Free Dish

Central Government

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

دہلی میں تعمیری ملاقات: ڈبلیو سی ڈی وزارت کے نچلی سطح کے پروگراموں اور این سی ایم ای آئی کے آئینی مینڈیٹ کے درمیان ہم آہنگی پر غور

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ طبقات کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ ان کے مطابق یو سی سی کے نفاذ کے بعد ایک ہی قانون سب شہریوں پر نافذ ہوگا اور کسی بھی طرح کا امتیاز باقی نہیں رہے گا۔

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔