Bharat Express DD Free Dish

Central Government

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

دہلی میں تعمیری ملاقات: ڈبلیو سی ڈی وزارت کے نچلی سطح کے پروگراموں اور این سی ایم ای آئی کے آئینی مینڈیٹ کے درمیان ہم آہنگی پر غور

اپنے خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ موجودہ نظام میں کچھ طبقات کو ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے، لیکن بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اس پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ ان کے مطابق یو سی سی کے نفاذ کے بعد ایک ہی قانون سب شہریوں پر نافذ ہوگا اور کسی بھی طرح کا امتیاز باقی نہیں رہے گا۔

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

معروف سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی کے مطابق قدیم ہندوستان میں خواتین کو نمایاں مقام حاصل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سماجی برائیوں اور عدم مساوات کے باعث ان کی حیثیت کمزور ہو گئی۔ تاہم جدید ہندوستان میں تعلیم، بیداری اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے خواتین کو دوبارہ بااختیار بنانے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے سماجی انصاف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی جانب گامزن ہے جہاں مساوات اور انصاف محض نعرے نہیں بلکہ عملی حقیقت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے جاری انتظار اب ختم ہونے کو ہے اور ریاستی اسمبلیوں سے لے کر پارلیمنٹ تک خواتین کی نمائندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

اس مہم کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی نمائندگی کو مضبوط بنانے کے لیے حال ہی میں پیش کیے گئے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ کے تئیں عوامی حمایت کا اظہار کرنا اور اس کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔ پروگرام کے منتظمین کے مطابق یہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک سماجی تحریک ہے، جس کے ذریعے خواتین کے مقام کو مزید مستحکم کرنے کا پیغام دیا جائے گا۔

امت شاہ نے انتخابی عمل کے دوران کسی بھی قسم کی بدامنی یا دھاندلی پر سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ 23 اور 29 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران اگر کسی نے خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے ایسے عناصر ووٹنگ کے دن گھروں میں ہی رہیں، ورنہ قانون اپنا کام ضرور کرے گا۔