Bharat Express DD Free Dish

Central Government

آٹھویں تنخواہ کمیشن میں تنخواہ کے حساب کا نیا فارمولہ تجویز — اب 3 نہیں بلکہ 5 افراد کی بنیاد پر تنخواہ طے ہوگی۔ نیشنل کونسل جے سی ایم نے کم از کم تنخواہ 69,000 روپے اور 3.83 فٹمنٹ فیکٹر کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے احتجاج کے دوران کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے ملک کی نصف آبادی کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق سے متعلق بل بار بار پیش ہوتا ہے، لیکن کبھی اسے پھاڑ دیا جاتا ہے،

اس فیصلے کے نتیجے میں مرکزی حکومت کے خزانے پر سالانہ تقریباً 6,791 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ یہ قدم عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے،

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو گیا کہ شمالی ریاستیں ان پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔