Bharat Express DD Free Dish

Central Government

کرن رجیجو نے کہا کہ اگر ملک کے موجودہ حالات کی بات کریں تو حکومت کے مطابق بائیں بازو کی شدت پسندی تقریباً ختم ہونے کے دہانے پر ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں بھی، منی پور کو چھوڑ کر بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا گیا ہے،

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے جو خدشات ظاہر کیے ہیں، انہیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جنوبی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو گیا کہ شمالی ریاستیں ان پر اپنی مرضی مسلط کر رہی ہیں تو صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے واضح کیا کہ کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور تمل ناڈو سمیت تمام جنوبی ریاستوں کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے منصوبے کے مطابق نشستوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں مجموعی نمائندگی بڑھے گی اور تمام ریاستوں کو اس کا فائدہ ملے گا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مزید کہا کہ 2029 سے پہلے نہ تو نئی حلقہ بندی نافذ ہوگی اور نہ ہی اس کے تحت انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حلقہ بندی کمیشن کی رپورٹ اسی وقت نافذ ہوگی جب پارلیمنٹ اسے منظور کرے گی اور صدر اس پر دستخط کریں گے۔ اس لیے آئندہ انتخابات پرانے حلقوں اور موجودہ نظام کے تحت ہی ہوں گے۔

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔