Bharat Express DD Free Dish

Budget

جب وزیر خزانہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنا 9واں بجٹ پیش کرنے پہنچیں، تو اعداد و شمار کے بجائے زیادہ بحث ان کی ساڑی پر ہوئی۔ معروف ’کانجیورم‘ ساڑی پہننا، جو لال بہی کھاتوں کے ساتھ مشہور ہے، محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی داؤ ںسمجھا جا رہا ہے۔

بھارت کے بجٹ 2026-27 سے قبل دنیا کی بڑی معیشتوں کے بجٹ ماڈلز پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ امریکہ سے لے کر چین تک، ہر ملک اپنی ضروریات کے مطابق بجٹ کی ترجیحات طے کرتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان ممالک کے بجٹ میں کیا خاص باتیں شامل ہوتی ہیں؟

ملک کے 1.1 کروڑ سے زیادہ مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنرز اتوار کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ 2026-27 سے آٹھویں پے کمیشن کے حوالے سے کسی بڑے اشارے کے منتظر ہیں۔ سب کی نظریں وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کے بجٹ خطاب پر مرکوز ہوں گی کہ آیا تنخواہ اور پنشن بڑھانے کے عمل کو تیز کیا جائے گا یا نہیں۔

مرکزی بجٹ 2026-27 سے تعلیم اور روزگار کے شعبے میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع ہے۔ ڈیجیٹل عدم مساوات کو دور کرنے، میگا اسکل حب بنانے اور اعلیٰ تعلیم میں نشستوں کی تعداد بڑھانے جیسے امور پر ماہرین کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

مرکزی بجٹ کی تاریخ کو لے کر سسپنس برقرار ہے۔ عام طور پر مرکزی حکومت بجٹ یکم فروری کو پیش کرتی ہے، لیکن اس بار یکم فروری اتوار کے دن اور روی داس جینتی کے موقع پر آ رہا ہے۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اتوار کے روز کہا کہ روپیے کی علامت (₹) کو تمل حروف سے بدلنے پر جاری سیاسی تنازعے کے درمیان اس قدم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی میں یہ تبدیلی زبان کے تئیں ریاست کی گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس سے پہلے 7 لاکھ روپے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا تھا۔  اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن صرف 75,000 روپے رکھی گئی ہے۔اب 24 لاکھ روپے کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس لگے گا۔ 75 ہزار روپے تک  اسٹنڈرڈ ڈی ڈکشن پر چھوٹ ہوگی۔

یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری میعاد کا پہلا بجٹ اجلاس ہوگا۔ مودی حکومت اٹھارہویں لوک سبھا انتخابات کے بعد مکمل بجٹ پیش کرے گی۔ اس سے پہلے ہونے والے سرمائی اجلاس میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا بیشتر حصہ ہنگامہ آرائی میں ضائع ہوگیا۔

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنی قابلیت اور دلچسپی کے مطابق یونیورسٹیوں کو شارٹ لسٹ کریں اور ان کے بارے میں مکمل معلومات اکٹھی کریں۔

اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کے اداروں نے 2023 کے لیے افغانستان کے امدادی منصوبے کے بجٹ کوکم کرکے 3.2 بلین ڈالر کر دیا ہے جو کہ سال کے شروع میں 4.6 بلین ڈالرطے کیا تھا ۔افغان خواتین کے لیے کام کرنے والی این جی اوز اور اقوام متحدہ کے لیے حالیہ پابندیوں نے پیچیدگی کی ایک اور تہہ کا اضافہ کیا ہے۔