آج مرکزی وزیرخزانہ بھارت کا بجٹ 27-2026 (بجٹ 2026) پیش کر رہی ہیں۔ اس موقع پر عام بھارتی شہریوں کی نظریں اس بات پر مرکوز رہتی ہیں کہ بجٹ سے انہیں کیا فائدہ ملے گا، کیا ٹیکس سلیب میں راحت دی جائے گی، کسانوں کے لیے کون سا پیکیج آئے گا۔ مجموعی طور پر ہر شعبہ اور ہر طبقہ اپنے اپنے مفاد اور فائدے کی فکر کرتا ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی ٹاپ 5 معیشتوں والے ممالک اپنے بجٹ کے حوالے سے کیا فکر رکھتے ہیں؟ وہ کن شعبوں کو زیادہ سہولتیں اور ترجیح دیتے ہیں؟ آئیے اس خبر میں اسی پہلو کا جائزہ لیتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں والے ممالک کے بجٹ کی اہم خصوصیات کیا ہیں۔
- امریکہ: دنیا کا سب سے بڑا بجٹ
اس سلسلے میں سب سے پہلے ہم دنیا کی سپر پاور یعنی امریکہ کی بات کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2025 میں امریکہ کا وفاقی بجٹ تقریباً 7.3 ٹریلین ڈالر تھا، جو دنیا کا سب سے بڑا بجٹ مانا جاتا ہے۔ تاہم اس بجٹ کا بڑا حصہ لازمی اخراجات (سوشل سکیورٹی اور میڈیکیئر) پر خرچ ہو جاتا ہے۔امریکہ کا دفاعی بجٹ بھی بے حد بڑا ہے، جو اب سود کی ادائیگی کے برابر تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کا بنیادی فوکس انڈو پیسفک خطے میں چین سے مقابلہ، جوہری ہتھیاروں کی جدید کاری، سائبر وار فیئر اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر ہے۔ ’گولڈن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام کے لیے 25 بلین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
- چین: تکنیکی جنگ کی تیاری
اب بات کرتے ہیں اپنے پڑوسی اور ابھرتی ہوئی طاقت چین کی۔ معلوم ہو کہ سال 2025 میں چین کا مرکزی خرچ تقریباً 28.5 ٹریلین یوان (تقریباً 4 ٹریلین ڈالر) تھا۔ اس کا بنیادی فوکس ’نیو کوالٹی پروڈکٹیو فورسز‘ یعنی مصنوعی ذہانت (AI)، چِپس اور گرین انرجی پر ہے۔ چین صنعتوں کو سبسڈی دینے اور تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس ملک کا ہمیشہ سے بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، آبی وسائل، توانائی کی سلامتی اور تکنیکی جدت پر زور رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چین صحت، تعلیم اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہا ہے۔
- جاپان: دفاعی بجٹ پر خصوصی توجہ
اب اگر دنیا کی بڑی ٹیک طاقت جاپان کی بات کریں تو سال 2025 میں اس کا بجٹ تقریباً 116 ٹریلین ین (770 بلین ڈالر) رہا۔ اس دوران جاپان کے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا، جو اس کے امن پسند (پیسفِسٹ) تاریخی پس منظر میں ایک بڑی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے۔ چین سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے جاپان نے ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ساحلی دفاعی نظام پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ تاہم جاپانی بجٹ کا ایک بڑا حصہ سماجی تحفظ، خاص طور پر پنشن اور صحت کے شعبے پر بھی خرچ کیا جاتا ہے۔
- جرمنی: مالی نظم و ضبط پر توجہ
جرمنی کی بات کریں تو سال 2025 میں اس کا وفاقی خرچ تقریباً 489 بلین یورو (530 بلین ڈالر) رہا۔ اس بجٹ میں توانائی کے شعبے میں تبدیلی (انرجی ٹرانزیشن) اور یوکرین جنگ کے تناظر میں فوج کی جدید کاری پر زیادہ توجہ دی گئی۔اسی وجہ سے جرمنی کے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، تاہم مجموعی طور پر ملک نے مالی نظم و ضبط (فِسکل ڈسپلن) کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔
- برطانیہ (یونائیٹڈ کنگڈم): صحت کی خدمات پر بھاری خرچ
آخر میں برطانیہ کی بات کریں تو سال 2025 میں یوکے کا سرکاری خرچ تقریباً 1.2 ٹریلین پاؤنڈ (1.5 ٹریلین ڈالر) رہا۔ اس بجٹ کا ایک بڑا حصہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کے لیے مختص ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل ہیلتھ، ذہنی صحت اور دندان سازی کے شعبے میں بھی بھاری سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ ساتھ ہی دفاعی شعبے میں بھی اضافے دیکھنے کو ملے تھے۔
مجموعی جائزہ
مجموعی طور پر دنیا کے ٹاپ بجٹ رکھنے والے ممالک اپنی اپنی ضروریات کے مطابق مختلف ترجیحات طے کرتے ہیں۔ جہاں امریکہ اور جاپان دفاعی شعبے پر زیادہ زور دے رہے ہیں، وہیں چین بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ جرمنی کا فوکس یورپی سلامتی اور فوجی جدید کاری پر ہے، جبکہ برطانیہ کی ترجیح صحت کے شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
