Bharat Express DD Free Dish

Speculations intensify over the 8th Pay Commission: بجٹ 2026: آٹھویں پے کمیشن پر قیاس آرائیاں تیز، مرکزی ملازمین اور پنشنرز کی بڑھیں توقعات

ملک کے 1.1 کروڑ سے زیادہ مرکزی سرکاری ملازمین اور پنشنرز اتوار کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ 2026-27 سے آٹھویں پے کمیشن کے حوالے سے کسی بڑے اشارے کے منتظر ہیں۔ سب کی نظریں وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کے بجٹ خطاب پر مرکوز ہوں گی کہ آیا تنخواہ اور پنشن بڑھانے کے عمل کو تیز کیا جائے گا یا نہیں۔

مالی سال 2026-27 میں تنخواہ اور پنشن میں اضافے کو مکمل طور پر نافذ کرنا ابھی مشکل سمجھا جا رہا ہے۔ بجٹ کے دن آٹھویں پے کمیشن کی باضابطہ تشکیل کو صرف تین ماہ ہی مکمل ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق، کمیشن کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے 18 ماہ کا وقت دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے امکان کم ہے کہ مالی سال 2026-27 میں تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نافذ ہو جائے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اگر بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں اضافے کے لیے الگ رقم کا بندوبست کیا جاتا ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اس عمل کو تیز کرنا چاہتی ہے۔اگر ایسا ہوا، تو پے کمیشن ملازمین اور دیگر متعلقہ فریقین سے بات چیت کا عمل تیز کر سکتا ہے اور مقررہ وقت سے پہلے ہی اپنی رپورٹ پیش کر سکتا ہے۔ فی الحال کمیشن کی رپورٹ کی آخری تاریخ مئی 2027 ہے۔

اس وقت DA اور DR کی شرح ساتویں پے کمیشن کے اختتام کے مقابلے کافی کم

جب بھی نیا پے کمیشن نافذ ہوتا ہے، تو مہنگائی الاؤنس (DA) اور مہنگائی ریلیف (DR) کو پہلے صفر کر دیا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ بڑھایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹھویں پے کمیشن میں اگر فٹمنٹ فیکٹر تھوڑا کم رکھا بھی جائے، تب بھی ملازمین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، کیونکہ اس وقت DA اور DR کی شرح ساتویں پے کمیشن کے اختتام کے مقابلے کافی کم ہے۔

اکتوبر میں ہونے والی آخری ترمیم کے بعد DA اور DR کی شرح 58 فیصد

اکتوبر میں ہونے والی آخری ترمیم کے بعد DA اور DR کی شرح 58 فیصد ہے۔ ساتویں پے کمیشن پر حکومت کا کل خرچ تقریباً 1.02 لاکھ کروڑ روپے تھا۔رپورٹ کے مطابق، اس بار ملازمین اور پنشنرز کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے آٹھویں پے کمیشن کا حکومت پر اثر 2.4 لاکھ کروڑ سے 3.2 لاکھ کروڑ روپے تک ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read