Bharat Express DD Free Dish

Budget Session 2026

لوک سبھا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تعطل بدستور برقرار ہے اور بجٹ پر بحث شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہو رہی ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور اب اسپیکر اوم برلا کے خلاف بڑا قدم اٹھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر غور کر رہا ہے، جس سے آئینی تصادم کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

کانگریس کے راجیہ سبھا رکن عمران پرتاپ گڑھی نے بی جے پی کی حکومت میں اقلیتی طبقہ کو مستقل نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ حالات کو فکر انگیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بریلی کے خالی گھر میں نمازپڑھنے والوں پرپولیس مقدمہ درج کرتی ہے، کرسمس کی تیاری کرتے ہوئے عیسائیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے، مدھیہ پردیش کے بیتول میں محمد نعیم کے بنوائے اسکول پربلڈوزرچلا دیا جاتا ہے

وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرکی تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس پارٹی پرسخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی یہ ہضم نہیں کرسکتی کہ مودی وزیراعظم کیسے بن گئے۔

وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا میں وکست بھارت کے اپنے وژن کوشیئرکرتے ہوئے کہا کہ ملک کی نوجوان آبادی، معیشت اور عالمی قیادت پر زور دیا۔ انہوں نے ہندوستان کودنیا کے کئی ممالک کے لئے ایک قابل اعتماد پارٹنر قراردیا۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان پی ایم مودی نے کانگریس پارٹی کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت مستقبل پرمبنی پالیسیوں پرعمل پیرا ہے۔

لوک سبھا میں کل زبردست ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کی خواتین ممبران پارلیمنٹ وزیراعظم مودی کی کرسی تک پہنچ گئیں۔ ہنگامہ آرائی کے باعث وزیراعظم اپنی تقریرنہیں کرسکے۔ اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ انہوں نے موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے کسی غیر متوقع واقعہ کے خدشے کے پیش نظر وزیراعظم کو ایوان میں داخل ہونے سے روک دیا۔

ادھر آج صبح اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں صبح 10 بجے ایک اہم میٹنگ بلائی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر پارلیمانی روایات کو پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران ایک بار پھر سیاسی ہنگامہ آرائی نے ایوان کی کارروائی کو متاثر کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب راجیہ سبھا میں بھی منی پور اور نفرت کے مبینہ پھیلاؤ کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا، جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، جس کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب ایک بار پھر ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے پیش نظر لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی، جو اب جمعرات صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔

لوک سبھا میں اسپیکراوم برلا پرکاغذ پھینکنے والے اراکین پارلیمنٹ پورے سیشن کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ اس اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکرکی کرسی کے پاس جاکر پیپر پھینکے تھے۔ اس کے بعد اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کیا۔