Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Speech Postponed: لوک سبھا میں ہنگامے کی نذر ہوا وزیر اعظم مودی کا خطاب، بجٹ اجلاس کی کارروائی کل تک ملتوی

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، جس کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب ایک بار پھر ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے پیش نظر لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی، جو اب جمعرات صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، جس کے باعث وزیر اعظم نریندر مودی کا صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک کے جواب میں دیا جانے والا خطاب ایک بار پھر ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے پیش نظر لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی، جو اب جمعرات صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق، بدھ کی شام تقریباً پانچ بجے جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی، پیٹھاسین رکن سندھیا رائے نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پی پی چودھری کو اظہار خیال کے لیے مدعو کیا۔ اسی دوران اپوزیشن جماعتوں کے ارکان تختیاں لے کر ایوان کے وسط میں آ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی۔ شور شرابا اس قدر بڑھ گیا کہ ایوان کی کارروائی چلانا ممکن نہ رہا۔

حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کے باوجود جب اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر واپس نہ لوٹے تو پیٹھاسین رکن نے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس ہنگامے کے باعث وزیر اعظم مودی کا وہ خطاب نہ ہو سکا، جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث بھی ایک بار پھر ادھوری رہ گئی۔

ادھر، راجیہ سبھا میں صورت حال نسبتاً مختلف رہی، جہاں صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث جاری رہی۔ اس دوران مرکزی وزیر پیوش گوئل نے امریکہ کے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے سے متعلق ایوان کو آگاہ کیا۔ تاہم، ان کے بیان پر اپوزیشن نے اعتراض کرتے ہوئے ایک روز قبل پارلیمنٹ کے باہر دیے گئے ان کے بیان کا حوالہ دیا اور وضاحت کا مطالبہ کیا۔

اسی دوران کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں پنڈت جواہر لعل نہرو اور سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی سے متعلق تنقیدی کتابیں لہرائے جانے کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے اسے غیر پارلیمانی رویہ قرار دیتے ہوئے سخت اعتراض درج کرایا۔ اس معاملے پر بھی حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔ مسلسل تعطل کے باعث بجٹ اجلاس کے دوران اہم قانون سازی اور پالیسی امور پر بحث متاثر ہو رہی ہے۔ پارلیمانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اجلاس کا قیمتی وقت ضائع ہوتا رہے گا۔ اب تمام نظریں جمعرات پر ٹکی ہیں، جب لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوگی اور توقع کی جا رہی ہے کہ صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث آگے بڑھ سکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read