Bharat Express DD Free Dish

Budget Session 2026

راہل گاندھی 2 بجے پھر بولنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے ایک بارپھر چین کا موضوع اٹھایا۔ اس پرکرن رجیجو نے اعتراض ظاہر کیا اور راہل گاندھی کو بولنے سے روکا گیا۔ ہنگامہ ہوا اور ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا گیا۔

پارلیمنٹ میں راہل گاندھی نے ڈوکلام کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے چین کے حوالے بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ سابق آرمی چیف جنرل نرونے کی کتاب کو شائع نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام پر سابق آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دیا۔ اس پر راجناتھ سنگھ نے سوال اٹھایا۔ وہیں سونے والا نے بھی کانگریس کو گھیرا۔ بعد میں وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی اس پرسوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے چوتھے دن صدر جمہوریہ کے خطاب پراظہارتشکرتجویزپربحث ہورہی ہے۔ اس درمیان اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام کا موضوع بھی اٹھایا ہے۔ اس دوران ایوان میں جم کرہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں پیر، 2 فروری کا دن انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والی اس بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت سیاسی نوک جھونک کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

وزیراعظم مودی نے عام بجٹ 2026-27 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ محض تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی سمت ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کی ترقی کو رفتار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تنقید کی اور اسے غریب مخالف بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل پیش نہیں کیا گیا۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں عام بجٹ 2026 پیش کیا، جسے وزیرِاعظم نریندر مودی نے تاریخی قرار دیا، تاہم کانگریس نے اس بجٹ کو مایوس کن اور بے اثر بتایا ہے۔

مرکزی بجٹ کی پیشکش کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے حکومت کے معاشی وژن کو واضح کرتے ہوئے بجٹ کی بھرپور ستائش کی ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو ’’بے پناہ مواقع کا بجٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد کو مزید مضبوط کرے گا۔