Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah and Rahul Gandhi Meets Om Birla: پارلیمنٹ چلے گی یا نہیں؟ وزیر داخلہ امت شاہ اور راہل گاندھی نے لوک سبھا اسپیکر سے کی ملاقات، تعطل برقرار، جانئے کیا ہے پورا معاملہ؟

لوک سبھا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تعطل بدستور برقرار ہے اور بجٹ پر بحث شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہو رہی ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔

نئی دہلی: لوک سبھا میں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری تعطل بدستور برقرار ہے اور بجٹ پر بحث شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔ ایوان کی کارروائی بار بار ملتوی ہو رہی ہے، جس سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس راجیہ سبھا میں کارروائی معمول کے مطابق جاری ہے، جہاں صدر جمہوریہ کے خطبے پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے، وزیر اعظم مودی نے اس کا جواب بھی دے دیا ہے اور اب بجٹ پر گفتگو کا آغاز ہو چکا ہے۔ سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم سمیت کئی اراکین ایوان بالا میں اپنی بات رکھ چکے ہیں، مگر لوک سبھا میں صورتحال جوں کی توں بنی ہوئی ہے۔ اس تعطل کی بنیادی وجہ اپوزیشن کے چند مطالبات ہیں، جن پر وہ بضد ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت دی جائے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کا مطالبہ ہے کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان مطالبات کو نظرانداز کر کے ایوان کی کارروائی معمول پر لانا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔

ادھر کانگریس نے لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تیاری کا بھی عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ اسپیکر کو ہٹانے کا آئینی عمل طویل اور پیچیدہ ہے، تاہم اس اعلان کے ذریعے کانگریس اسپیکر پر دباؤ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ فی الحال اپوزیشن کی زیادہ تر جماعتیں کانگریس کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہیں، لیکن یہ حمایت کب تک برقرار رہے گی، اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ کئی علاقائی جماعتیں چاہتی ہیں کہ لوک سبھا میں بجٹ پر بحث شروع ہو تاکہ وہ حکومت کو عوامی مسائل پر گھیر سکیں۔ خاص طور پر تمل ناڈو اور مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ارکان اس بات کے حامی ہیں کہ ایوان کی کارروائی جلد از جلد بحال ہو۔ دوسری جانب ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کا مؤقف قدرے مختلف ہے۔ وہ اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے بجائے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی وکالت کر رہی ہے، جس سے اپوزیشن کے اندر اختلافات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

حکومت کے سامنے سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ اگر وہ راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت دیتی ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ دوبارہ سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے کی کتاب کا حوالہ نہیں دیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو وہی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جو صدر جمہوریہ کے خطبے کے دوران دیکھنے میں آئی تھی، جب شدید ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی متاثر ہوئی تھی۔ یہی خدشہ حکومت کو کسی فیصلے تک پہنچنے سے روک رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے پہلے ہی طے کیا تھا کہ صدر کے خطبے پر بحث میں راہل گاندھی حصہ لیں گے، جبکہ بجٹ پر پارٹی کی جانب سے پرینکا گاندھی کو بولنے کا موقع دیا جائے گا، مگر موجودہ تعطل کے سبب یہ منصوبہ بھی التوا کا شکار ہے۔ اپوزیشن اراکین کی معطلی واپس لینے کے معاملے پر بھی اپوزیشن میں خاصی یکجہتی دیکھی جا رہی ہے۔

خواتین اراکین پارلیمنٹ سے متعلق ایک واقعے اور اس پر لوک سبھا اسپیکر کے بیان نے بھی اپوزیشن کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ خواتین اراکین کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا اور اس پر مناسب کارروائی نہیں ہوئی۔ اس دوران راہل گاندھی، اکھلیش یادو، ابھیشیک بنرجی اور ٹی آر بالو سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی۔ بعد ازاں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی اسپیکر سے بات چیت کی، جس سے یہ امید بندھی کہ شاید کوئی درمیانی راستہ نکل آئے۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 13 فروری تک جاری رہے گا، جبکہ دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے شروع ہو کر 2 اپریل تک چلے گا۔ ایسے میں سب کی نظریں اس بات پر ٹکی ہیں کہ کیا حکومت اور اپوزیشن کسی مفاہمت پر پہنچ پاتے ہیں یا لوک سبھا کا تعطل مزید طول پکڑتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read