Bharat Express DD Free Dish

BJP government

اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پشکرسنگھ دھامی نے بڑا بیان دیا ہے۔ یوسی سی پوری ریاست اتراکھنڈ پرنافذ ہوگا، لیکن اس سے درج فہرست قبائل کوباہر رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی ریاست کے باہر رہنے والے اتراکھنڈ کے باشندوں پربھی یوسی سی نافذ ہوگا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے لیڈر رہے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ ملک ہندو مسلم منافرت کی آگ میں پہلے سے ہی جھلس رہا ہے اور بی جے پی کی حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اس میں مزید گھی ڈالنے کا کام کر رہی ہیں، جوکسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔

کانگریس پارٹی کی لیڈراور رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نوکری کے لئے درخواست فارم پرلگنے والے جی ایس ٹی سے متعلق مرکزی حکومت پر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کونوکری دے ہی نہیں سکتی ہے، لیکن درخواست فارم پر جی ایس ٹی لگاکر زخموں پر نمک ضرور چھڑک رہی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان نے سنبھل تشدد کے معاملے پر جیل سے پیغام بھجوایا ہے۔ اس پیغام میں انہوں نے خاص اپیل کی ہے۔

خصوصی مہم 4.0 کا کابینہ کے وزراء، وزرائے مملکت اور مرکزی حکومت کے سکریٹریوں کے ذریعہ جائزہ لیا گیا، جس نے عمل آوری میں قیادت اور رہنمائی فراہم کی۔

اسد الدین اویسی نے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کے چمولی میں 15 مسلم خاندانوں کا بڑے پیمانے پر بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

توقیر رضا نے کہا کہ ایک نِکَمّا آدمی ہماری مسجد میں جاتا ہے اور ہماری مسجد کے کاغذات مانگتا ہے۔ اسے یہ حق کس نے دیا؟ حکومت بے ایمانی کر رہی ہے۔ حکومت ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی۔ سچ تو یہ ہے کہ 2014 سے پہلے یہ لوگ بم پھینکتے تھے اور کہتے تھے کہ بم مسلمانوں نے پھینکے ہیں۔ وہی لوگ اب بم نہیں پھینک رہے ہیں۔ وہ دہشت گردی پھیلا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، رجیجو نے صفائی کے تئیں وزارت کے عزم کو اجاگر کیا،انہوں نے مزید کہا کہ   یہ مہم 2014 سے جاری ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ 'میک ان انڈیا' ملک کو مینوفیکچرنگ اور اختراع کا پاور ہاؤس بنانے کے 140 کروڑ ہندوستانیوں کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اڈیشہ کے سابق سی ایم اور بی جے ڈی کے سربراہ نوین پٹنائک نے ایک ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’بھرت پور تھانے میں فوج کے ایک میجر اور ایک خاتون کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا گیا وہ حیران کن اور سمجھ سے باہر ہے۔ پولیس نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا اس سے ملک کے ضمیر کو جھٹکا لگا ہے۔