Bharat Express DD Free Dish

Delhi CAG Report: دہلی میں ابھی بھی ہوگی ہنگامہ آرائی! کل اسمبلی میں پیش ہوسکتی ہے دوسری CAG رپورٹ

دہلی اسمبلی میں 28 فروری کو ہیلتھ سیکٹرسے متعلق کیگ کی رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے۔ شراب پالیسی کے معاملے میں دہلی کی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

نئی دہلی: دہلی اسمبلی میں جمعہ (28 فروری) کودوسری کیگ کی رپورٹ پیش ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے اس کی جانکاری دی۔ ذرائع کے مطابق، سرکاری اسپتال اورصحت خدمات (2024) کی کیگ کی رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے۔ اس سے پہلے دہلی اسمبلی میں شراب پالیسی سے متعلق کیگ کی رپورٹ پیش کی گئی، جس پرخوب سیاسی ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے۔ برسراقتداراوراپوزیشن ایک دوسرے پرمسلسل حملے کررہے ہیں۔

اپوزیشن اراکین اسمبلی کواسمبلی احاطے میں داخلے سے روکا گیا

اس درمیان جمعرات (27 فروری) کو اپوزیشن لیڈر سمیت آتشی سمیت عام آدمی پارٹی کے 21 اراکین اسمبلی کواسمبلی احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اس پر پارٹی کے اراکین اسمبلی نے احاطے کے باہرہی دھرنا دے دیا۔ آتشی نے کہا کہ دہلی کی بی جے پی حکومت نے اقتدارمیں آتے ہی تانا شاہی کی حدیں پارکردیں۔

منگل کو عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو کیا گیا معطل

منگل (25 فروری) کولیفٹیننٹ گورنروی کے سکسینہ کے افتتاحی خطاب کے دوران ایوان کی کارروائی میں رخنہ اندازی کرنے کی وجہ سے آتشی سمیت ایوان میں موجود عام آدمی پارٹی کے 21 اراکین اسمبلی سے تین دنوں کے لئے معطل کردیا گیا۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے کل 22 اراکین اسمبلی ہیں۔ منگل کے روزاوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس لئے انہیں معطل نہیں کیا گیا تھا۔

امانت اللہ خان نے اٹھایا بڑا سوال

عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان نے کہا کہ جب بی جے پی اراکین اسمبلی ایوان میں میز پر چڑھ گئے تھے، تب بھی انہیں اس طرح سے (اسمبلی میں داخلہ سے) نہیں روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا سائٹ ایکس (سابقہ میں ٹوئٹر) پرایک پوسٹ میں سابق وزیراعلیٰ آتشی نے کہا کہ ’’جے بھیم‘‘ کے نعرے لگانے سے متعلق تین دنوں کے لئے عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی کوایوان سے معطل کیا اورآج عام آدمی پارٹی کے اراکین اسمبلی کواسمبلی احاطے میں بھی نہیں گھسنے دیا جا رہا ہے۔ دہلی اسمبلی کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read