Abhishek Banerjee Alleges Vote Rigging: بنگال میں شکست کے بعد ابھیشیک بنرجی کا بڑا الزام، ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ اور ووٹ لوٹنے کا دعویٰ
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ جس طرح کا ماحول بنایا گیا، وہ شفاف جمہوری عمل نہیں تھا۔ ان کے مطابق ”ہم شکست تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ جو کچھ ہوا وہ عوامی فیصلے کی عکاسی نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے“۔
BJP Under PM Modi Leadership: وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی غیر معمولی پیش رفت، 13 برسوں میں ارکان اسمبلی کی تعداد 773 سے بڑھ کر 1806 تک پہنچ گئی
شمال مشرقی ریاستوں میں بھی بی جے پی کی پیش قدمی قابل ذکر رہی ہے۔ منی پور، میگھالیہ اور میزورم میں جہاں 2013 میں پارٹی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا، اب وہاں بالترتیب 36، 2 اور 2 ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے اپنی موجودگی قائم کرتے ہوئے سات نشستیں حاصل کی ہیں، جو اس کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہے۔
Rahul Gandhi On West Bengal Results: بنگال میں ٹی ایم سی کی شکست پر کیوں خوش ہو رہے ہیں کانگریسی؟ راہل گاندھی کی پارٹی میں سب کچھ ٹھیک! لیڈر نے خود دیا بڑا اپ ڈیٹ
نتائج کے بعد اپوزیشن کے اہم رہنما اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے بیان میں کہا کہ پارٹی کے کچھ لوگ اور دیگر افراد ٹی ایم سی کی شکست پر خوشی منا رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ معاملہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے جمہوری نظام سے جڑا ہوا ہے۔
India Bank Credit Growth Accelerates: مالی سال 2026 میں بینک قرضوں میں 15.9 فیصد اضافہ، ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے: مودی حکومت
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 تک ملک میں بینکوں کا مجموعی بقایا قرض 212.9 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں تقریباً 29 لاکھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عوام اور کاروباری طبقے کی بڑھتی مالی ضروریات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
West Bengal Assembly Elections Results: چار مئی کی شام ڈھل رہی ہے مگر بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے: وزیراعظم مودی
مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔
Lotus Blooming From Gangotri To Gangasagar: بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے: وزیراعظم مودی
اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔
Assembly Election Results: بی جے پی کو کامیابی اچانک نہیں ملی، برسوں کی محنت کا نتیجہ: وزیراعظم مودی کا بنگال و آسام پر ردعمل
وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔
Assam Election Results: آسام میں بی جے پی کی تاریخی ہیٹ ٹرک، وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے جیت کو ترقی اور ناری شکتی کے حق میں عوامی مینڈیٹ قرار دیا
ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔
Congress Election Results 2026: راہل گاندھی 99ویں بار ناکام! پانچ ریاستوں میں 20 فیصد سیٹیں بھی نہیں جیت سکی کانگریس؟
ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔
West Bengal Election Results: بنگال انتخابات 2026 میں مرکزی فورسز کا کلیدی کردار، سی آر پی ایف کی تعیناتی سے تشدد اور مبینہ دھاندلی پر قابو پانے کے دعوے
ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔





